سمگل شد ہ سگر یٹ کی تجا ر ت کو فرو غ ملنے کا امکان، ملکی خزانے کو اربوں روپے سالانہ نقصان کا اندیشہ

سمگل شد ہ سگر یٹ کی تجا ر ت کو فرو غ ملنے کا امکان، ملکی خزانے کو اربوں روپے ...
سمگل شد ہ سگر یٹ کی تجا ر ت کو فرو غ ملنے کا امکان، ملکی خزانے کو اربوں روپے سالانہ نقصان کا اندیشہ

  


اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سگر یٹ  پیکٹ کے85 فیصد حصے پر تصو یری وارننگ شا ئع کر نے سے ملک میں سمگل شد ہ سگر یٹ کی تجا ر ت کو مزید فرو غ ملنے کا امکان ہے جس سے ملکی خزانے کو اربوں روپے سالانہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

فیڈر ل بو ر ڈ آ ف ریونیوکے ذرائع کے مطابق اس وقت سا لا نہ 3ارب40 کرو ڑ سمگل شدہ سگر یٹ ملک میں فر وخت کئےجا ر ہے ہیں جن پر پاکستانی قوانین کے مطابق تصویری ہیلتھ وارننگ شائع نہیں ہوتی۔ اس وقت پاکستانی مارکیٹ میں بغیر تصویری ہیلتھ وارننگ کے سگریٹ کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں جن میں کورئین برانڈ پائین سرفہرست ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پائین سگریٹ کی غیر قانونی فروخت میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 40 فیصد تصویری وارننگ کو 85 فیصد بڑھانے سے صرف غیرقانونی سگریٹوں کی فروخت میں اضافہ ہو گا جبکہ تمباکو نوشی کی کمی کے حوالے سے متوقع نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

ماہرین پائین کی فروخت میں اضافے کو ستمبر 2010ءمیں 40 فیصد تصویری ہیلتھ وارننگ کے قانون کے نفاذ سے جوڑتے ہیں اور ماہرین کے مطابق 2010ءمیں تصویری ہیلتھ وارننگ کے قانون کے بعد سے پائین سگریٹ کی غیر قانونی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید : بزنس