تحریک دفاع حرمین شریفین کا مشاورتی اجلاس

تحریک دفاع حرمین شریفین کا مشاورتی اجلاس
تحریک دفاع حرمین شریفین کا مشاورتی اجلاس

  


مشرق وسطیٰ کی الجھی ہوئی صورت حال کے حوالے سے ہم انہی صفحات پر وقتاََ فوقتاََ اپنی رائے کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں، اگر ہمارے جریدے کے پرانے اور مختلف شماروں کو اِس عنوان سے اکٹھا کرکے پڑھاجائے تو یقیناً’’بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے ‘‘والا محاوہ منطبق ہوتاہے۔یمن میں حُوثی بغاوت کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والے رَدِ عمل کو ہم مسلمانوں کے فطری رَدِ عمل سے تعبیر کرتے ہیں ،پارلیمانی قرار داد پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا اور سیاسی و عسکری قیادت نے سعودی عرب پہنچ کر جن خیالات کا اظہار کیا، ان کو سراہا بھی گیا۔ تحریک دفاع حرمین شریفین کے اساسی ارکان مولانا عبدالرؤف فاروقی ،مولانا زاہدالراشدی ،مولانا محمد احمد لدھیانوی ، مولانا فضل الرحمن خلیل ،پیر سیف اللہ خالد اور راقم الحروف(عبداللطیف خالد چیمہ)کی باہمی مشاورت سے 15 اپریل کو بعد نماز ظہر (2 بجے)اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد میں ایک بھر پور مشاورتی اجلاس ہوا۔اجلاس میں اسلام آباد ، راولپنڈی سے دینی طبقات کی بھر پور نمائندگی تھی۔

اجلاس میں یمن میں جاری بغاوت اور اس کو کچلنے کے لئے سعودی عرب کی کارروائیوں ،سعودی حکومت کی طرف سے حکومت پاکستان سے فوج بھیجنے کی درخواست ،اس پر پاکستانی پارلیمنٹ کی قرار داد ،حرمین شریفین ،جزیرۃ العرب اور سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات ،عالمی اور خطے کی بعض قوتوں کی طرف سے یمنی باغیوں کی پشت پناہی اور یمن سعودی خون آشام واقعات کو سنی ،شیعہ جنگ قرار دے کر پاکستان میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی سازش جیسے اہم واقعات پر غور و فکر کے بعد متوازن حکمت و بصیرت پر مبنی اور عالم اسلام کے وسیع تر مفاد میں متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے طویل مشاورت ہوئی ،جس میں بڑی تعداد میں علماء و مشائخ ، دانشور اور دینی و سیاسی قائدین شریک ہوئے۔ اجلاس میں مذکورہ بالا مسائل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور باہمی مشاورت سے درج ذیل امور پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا گیا، جو تحریک کے کنوینر مولاناعبدالرؤف فاروقی نے پڑھ کر سنایا اور میڈیا کو بریفنگ دی ۔۔۔اعلامیہ درجہ ذیل ہے۔

یمن میں باغیوں کی طرف سے جاری مسلح جدوجہد ایک منتخب حکومت کے خلاف بغاوت ہے ،جس کا کوئی قانونی ،اخلاقی اور سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کے بعض ممالک کی طرف سے باغیوں کی حمایت ،پشت پناہی اور مالی و عسکری امداد بلا جواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یمن کی منتخب قانونی حکومت کو اپنے ہمسایہ ملک سعودی عرب سے امداد طلب کرنے کا قانونی حق حا صل ہے اور یمن کی درخواست پر سعودی حکومت کی کارروائی سفارتی قوانین اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کے اصول پر مبنی ہے۔ تحریک دفاع حرمین شریفین یمنی حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات اور اس سلسلے میں کسی ثالثی کے کردار کی تجویز کو بچگانہ یا حقائق سے جان بوجھ کر صرف نظر کرنا قرار دے کراس طرح کی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کرتی، کیونکہ اس سے دنیا بھر میں بغاوت کا راستہ کھلے گا۔

تحریک دفاع حرمین شریفین سمجھتی ہے کہ سعودی عرب کو یمن کی منتخب حکومت کی حمایت اور اپنی سر حدوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کارروائی کا حق حاصل ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اپنے برادرانہ، نظریاتی اور قدیم تعلقات کی بنیاد پرامداد طلب کرنے کو حق بجانب سمجھتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرُزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سعودی عرب کی مطلوب امداد غیر مشروط اور بلا تاخیر سعودی حکومت کو فراہم کرے اور اس سلسلے میں سعودی حکومت کے مخالفین کی دھمکیوں سے مرغوب ہونے کی بجائے ایک اسلامی ایٹمی قوت کے طور پر اپنا فیصلہ پاکستانی قوم کی اُمنگوں، برادر اسلامی ملک کی توقعات کے مطابق کرے اور پاک فوج کو بھیج کر جزیرہ عرب، سرزمین حرمین شریفین کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرے۔ تحریک دفاع حرمین شریفین پارلیمنٹ کی قرار داد کو مبہم ، عوامی اُمنگوں اور اسلامی اخوت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سیکو لر اراکین پارلیمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے حرمین شریفین کے دفاع کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

تحریک دفاع حرمین شریفین سعودی حکومت کی حمایت کرنے پر پاکستان میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی اور سنی شیعہ فسادات کے خطرے کو پوری شدت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اس طرح کی ہر سازش کو ناکام بنانے اور ملک میں فرقہ وارانہ امن قائم رکھنے میں تحریک سب سے بڑی اور موثر قوت ثابت ہو گی اور کسی کو ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔ تحریک دفاع حرمین شریفین حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسلامی سر براہی کانفرنس ، او آئی سی ، رابطہ عالم اسلامی اور فکری و سیاسی ہم آہنگی رکھنے والے ممالک کو متحرک کرکے تمام قوتوں کو یمنی حوثی باغیوں کی مالی و عسکری امداد روکنے میں مؤثر ،متحرک اور قائدانہ کردار ادا کرے۔

تحریک دفاع حرمین شریفین اپنے موقف پر منفی سوچ رکھنے والے دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں سے مکالمہ کرکے حقائق اور دلائل کے ساتھ ان کے شکوک و شبہات کو دور کرکے قومی یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی طرح علمائے کرام اور مشائخ عظام کی مشاورت سے پوری اسلامی برادری کو حرمین شریفین کے دفاع پر متحرک کرنے کا اہتمام کرے گی یہ اس سلسلے میں 4مئی کو کراچی میں علماء و مشائخ کا وسیع تر مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے گا،اس کے جلد بعد تحریک دفاع حرمین شریفین کے اہداف پر اعتماد حاصل کرنے کے لئے آل پارٹیز گول میز مشاورتی اجلاس کا اہتمام کیا جائے گا۔ مشاورتی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن خلیل ، مولانا محمد احمد لدھیانوی کے علاوہ مفتی حمید اللہ جان ،مولانا قاضی عبدالرشید ، مولانا نذیر فاروقی ، مفتی مجیب الرحمن ،مولانا فاروق کشمیری ، مولانا عبدالرؤف فاروقی ، مولانا شبیر کشمیری ،مولانا سید چراغ الدین شاہ، تاجر رہنماء کاشف جودھری ، طارق اسد ایڈووکیٹ ، اجمل بلوچ ، پیر سیف اللہ خالد ، مولانا عبدالخالق ، مولانا عبدالسلام،مولانا پیر محمد ابو ذر غِفاری ، راقم الحروف و دیگر نے شرکت کی۔ مجلس احرارِ اسلام کی طرف سے اسلام آبا د میں مولانا پیر محمدابوذر غِفاری لاہور میں قاری محمد یوسف احرار اور میاں محمد اویس، تحریک دفاع حرمین شریفین کے مختلف اجلاسوں میں شریک ہوئے ،جبکہ کراچی میں4 مئی کو منعقد ہونے والے مشاورتی اجلا س میں مولانا مفتی عطاء الرحمن قریشی اور محمد شفیع الرحمن شرکت کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مزید : کالم