نیا پاکستان

نیا پاکستان
نیا پاکستان

  


نیا پاکستان وہ نہیں تھا،جس کے نعرے عمران خان ڈی چوک والے دھرنے کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہو کر لگواتے تھے، وہ تو محض ایک نعرے بازی تھی، ڈھکوسلہ تھا، جھوٹا خواب تھا اور قوم کے قیمتی وقت کی بربادی تھی۔نیا پاکستان وہ ہے جو وزیراعظم میاں نوازشریف کی قیادت میں بن رہا ہے، جس میں چین کا صدر خود اسلام آباد آکر 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا افتتاح کرتا ہے، جس میں پاک چین اقتصادی کوریڈور کے ذریعے پاکستان چین کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے منسلک کرتا ہے اور اس کے عوض چین پاکستان میں انفراسٹرکچر، ریلوے ، شاہراہوں، موٹرویز اور صنعتی زونوں کا جال بچھا دیتا ہے، جس میں چین گہرے سمندر کی دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ کی تعمیر پاکستان میں کرتا ہے اور نیا پاکستان وہ ہے ،جس میں ملک اقتصادی ترقی، خوشحالی اور امن و امان کی شاہراہ پر اپنا تیز تر سفر شروع کرتا ہے۔ عمران خان کا نیا پاکستان اور ہے، وزیراعظم میاں نوازشریف کا نیا پاکستان اور ہے۔ عمران کے نئے پاکستان کی بنیاد طوفانِ بدتمیزی، دروغ گوئی اور سسٹم کو تلپٹ و لاچار کرنے پر رکھی جاتی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کے نئے پاکستان کی بنیاد اقتصادی ترقی، انفراسٹرکچر کی تعمیر، خوش حالی اور امن و امان پر رکھی جاتی ہے۔ عمران خان کے نئے پاکستان میں ہر ایشو پر دن میں تین تین بار یوٹرن لیا جاتا ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کے نئے پاکستان میں مستقل مزاجی، انتھک محنت اور ڈلیوری ہے۔ عمران خان کا نیا پاکستان ملک میں سسٹم کی تباہی اور انارکی لاتا ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کا نیا پاکستان ملک میں استحکام اورسسٹم کی مضبوطی لاتا ہے۔ پاکستانی قوم اتنی بے وقوف اور سادہ لوح نہیں ہے کہ عمران خان کے نئے پاکستان کے چکر میں پڑ کر اپنا حال خراب اور مستقبل تباہ کرلے۔پاکستانی قوم اتنا شعور رکھتی ہے کہ وہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے نئے پاکستان میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی چن پنگ نے بیس اور کیس اپریل کو پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس دورہ کو نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر کے میڈیا نے لمحہ بہ لمحہ کور کیا اور اسے پورے خطہ کے لئے گیم چینجر قرار دیا۔ اس دورہ کے دوران چینی صدر نے 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کرکے ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے پہلے آج تک کسی ملک نے کسی دوسرے ملک میں ایک وقت میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی تھی۔یہ ساری کی ساری رقم براہ راست سرمایہ کاری ہے۔ یہ وزیراعظم میاں نوازشریف کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہمارے پچھلے حکمران کہیں سے قرضہ پکڑ دھکڑ کر لاتے تو مہینوں بغلیں بجاتے تھے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے قرضہ لینے کی بجائے پاکستان میں سرمایہ کاری کروائی ہے۔ چینی صدر شی چن پنگ کا دورہ سات ماہ پہلے ستمبر میں ہونا تھا، لیکن ان دنوں عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں مضحکہ خیز تھیٹر لگا رکھا تھا، جس کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔ عمران خان کے دھرنے نے قوم کے سات ماہ ضائع کر دیئے، جس کا حساب انہیں بہرحال دینا پڑے گا۔ چینی صد رکا دورہ اگر سات مہینے پہلے ستمبر میں ہو جاتا تو آج ان منصوبوں پر دھڑا دھڑ کام ہو رہا ہوتا۔بہرحال دیر آئد درست آئد کے مصداق ان منصوبوں پر کام اب شروع ہو جائے گا اور ساتھ ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کا آغاز بھی ہو جائے گا۔

کہتے ہیں دیگ کا ذائقہ معلوم کرنے کے لئے ایک دانہ چکھنا ہی کافی ہوتا ہے، اس کے لئے پوری دیگ کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کی اگر پچھلے ایک ہفتے کی مصروفیت دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک بڑے سٹیٹسمین کی طرح ان کا پورا فوکس صرف ایک چیز پر ہے اور وہ ہے پاکستان کو درپیش اقتصادی، سیاسی اور علاقائی چیلنجز میں کامیابی کے ساتھ نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا۔ سب سے پہلے چین کے صدر شی چن پنگ نے پاکستان کی پوری تاریخ کا سب سے اہم ترین دورہ کیا، اس کے اگلے ہی دن وزیرعظم میاں نوازشریف اور آرمی چیف سعودی عرب گئے اور وہاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی قیادت کے ساتھ مل کر مستقبل قریب کی سیاسی اور علاقائی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کی اور پھر اس کے فوراً بعد برطانیہ کا دورہ ،جہاں وزیراعظم میاں نوازشریف برطانوی قیادت کے ذریعے یورپ اور نیٹوکو نہ صرف اعتماد میں لیں گے، بلکہ انہیں بھی پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کے لئے راضی کریں گے۔وزیراعظم میاں نوازشریف سے پہلے آج تک کسی پاکستانی حکمران نے ایک ہفتے کے اندر دنیا کے تین اہم ترین خطوں میں اس طرح رسائی حاصل نہیں کی تھی، جس طرح وزیراعظم میاں نوازشریف نے کی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے سعودی عرب میں واضح کیا کہ نہ تو سعودی عرب نے پاکستان کو کوئی وش لسٹ دی ہے اور نہ پاکستان کا عرب جنگ میں کودنے کا کوئی ارادہ ہے، البتہ اگر پاکستان کے اہم ترین دوست سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پھر پاکستان پیچھے نہیں رہے گا، بلکہ اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کا یہ فیصلہ بہترین ملکی مفاد میں ہے اور یمن کی جنگی صورت حال میں اس سے بہتر فیصلہ ممکن نہیں تھا۔

یہ درست ہے کہ پچھلے کئی عشروں سے حکمرانوں کی غلط ترجیحات اور پالیسیوں نے پاکستانی عوام کی زندگی دکھوں کی گٹھری بنا رکھی ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی دوتہائی آبادی اس وقت نوجوان ہے اور اس کی عمر تیس پینتیس سال سے کم ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے دوتہائی لوگوں کا اپنی زندگی کا بڑا حصہ ابھی گزارنا باقی رہتا ہو، اگر اب سے بھی حالات ٹھیک ہو جائیں تو اسے اللہ کی مہربانی اور نوازش سمجھنا چاہیے۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے جس نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، اس کی تکمیل سے ملک کی دوتہائی آبادی ایک ایسے ملک کے باشندے ہوں گے جو دنیا کا ایک ترقی یافتہ اور خوش حال ملک ہوگا ۔آج پاکستان میں 170یونیورسٹیاں ہیں،135میڈیکل کالج،درجنوں سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے اور تحقیقی مراکز ہیں۔ ملک میں صنعتوں کی ایک وسیع بنیاد موجود ہے، توانائی کا بحران ختم ہونے کے بعد جب ان ہزاروں فیکٹریوں کی چمنیاں دھواں اگلنا شروع ہوں گی تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آ جائے گا۔ پاکستان دنیا کے اہم ترین زرعی ممالک میں شامل ہے، یہاں کی لائیوسٹاک دنیا میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان اسلحہ سازی میں دنیا کے ٹاپ ٹین ملکوں میں شامل ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں اپنا مقام بناتی جارہی ہیں۔ پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، دنیا کی بہترین زرخیز زمین، چاروں موسم، پانچ دریا، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام اور دنیا کی اہم افرادی قوت۔۔۔ یہاں سب کچھ ہے، صرف ضرورت ہے ، نئے پاکستان کی ، عمران خان نیم سول نافرمانی والے نہیں، بلکہ وزیراعظم میاں نوازشریف والے نئے پاکستان کی جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ ملک ترقی یافتہ اور عوام خوشحال ہوں گے۔ کراچی کے حلقہ 246کے ضمنی الیکشن نے عمران خان کے تیس مار خان مار کہ نئے پاکستان کو مسترد کرکے آنے والے وقت میں حقیقی نئے پاکستان کی نوید سنا دی ہے۔

مزید : کالم