خیبر پختونخوا میں تباہی

خیبر پختونخوا میں تباہی

خیبر پختونخوا میں آندھی، طوفانی بارش اور ژالہ باری نے تباہی مچا دی۔عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زائد شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے ۔پشاور کے تینوں سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔ عمارتوں کے ساتھ باغات اور کھڑی فصلوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ۔ حادثات میں پشاور کی ایک مسجد بھی شہید ہوئی۔طوفان کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی۔خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ محکمہ موسمیات نے بارشوں سے متعلق کوئی وارننگ جاری نہیں کی تھی جبکہ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف کے مطابق پشاورسمیت دیگر بالائی علاقوں میں تیز آندھی اور بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن اس شدت کی بارش اور آندھی پہلے نہیں دیکھی گئی۔ہمارے ہاں نقصان کی صورت میں ذمہ داری ایک دوسرے کے کندھے پر ڈالنے کی یہ روایت نئی نہیں ہے۔دو سال قبل سیالکوٹ اور نو سال پہلے سرگودھا میں بھی ہوائی بگولے چلے تھے۔محمد حنیف نے پشاور کی طوفانی بارش کی وجہ جنگلات کی کٹائی اور آلودگی میں اضافہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کومستقبل میں بھی ایسی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آندھی کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اورپشاورمیں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 59ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔اس بارش کو ایک چھوٹے طوفان کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

طوفان تو گزر گیا لیکن اس کے اثرات باقی ہیں، سڑکوں پر مختلف مقامات پر پانی کھڑا ہے، شہرکی سڑکوں اور گلیوں میں اْبلے گٹر سیلاب کا منظر پیش کررہے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔اطلاعات کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال تو پہنچا دیا گیا لیکن وسائل میں کمی کے باعث بر وقت طبی امداد فراہم نہ کی جا سکی جن کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔خیبر پختونخوا میں آندھی طوفان کی وجہ سے پہلے ہی لوگ شدید پریشان تھے کہ نیپال میں آنے ولے زلزلے کے اثرات بھی وہاں پہنچ گئے، زلزلے کے جھٹکوں سے کافی خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔خوفزدہ لوگ گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔نیپال میں تو یہ زلزلہ اپنا ہولناک رنگ دکھا ہی رہا ہے،اتوار کو بھی آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا، زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3500 جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,000 کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے، ہسپتالوں میں زخمیوں کیلئے گنجائش نہیں ہے۔سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اب تک 24 آفٹر شاکس ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ پاک فوج کے 2 سی ون 30 طیارے امدادی سامان لیکر کٹھمنڈو پہنچ گئے جبکہ مزید 2 طیارے آج پہنچیں گے۔ پاک فوج کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی امدادی ٹیمیں ساتھ گئی ہیں۔ 30 بستر پر مشتمل ہسپتال بھی نیپال بھیجا گیا ہے۔ نیپالی حکام نے تباہ کن زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے ۔

اس طرح کی ناگہانی آفات کا راستہ روکنا تو ممکن نہیں ہے لیکن مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے تباہی کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے مگر افسوس اس طرف توجہ دینے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ہمارے ہاں ہر سال ملک بھر میں بارشیں ہوتی ہیں، طوفان آتے ہیں ، مکانوں کی چھتیں گرتی ہیں عمارتیں منہدم ہو جاتی ہیں،کئی معصوم جانیں ان حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں لاہور میں بھی طوفانی بارش کے باعث مکانوں کی چھتیں گرنے سے کئی لوگ جاں بحق ہو گئے تھے، اس وقت بھی اعلیٰ شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا، امداد بھی دی لیکن اگلی بار نقصان کی شدت کم کرنے کے لئے کسی پیش بندی کی خبر سننے میں نہیں آئی۔ المیہ تو یہ ہے کہ جب کوئی آفت سر پر پڑ جاتی ہے تو انتظامیہ ہوش میں آتی ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بھی حرکت میں آجاتی ہے۔ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچنے کے لئے اقدامات کا تہیہ کیا جاتا ہے لیکن پھر ڈھاک کے وہی تین پات، وقت گزر جاتا ہے تو تمام محکمے پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں زلزلوں اور طوفانوں کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے شاک پروف عمارتیں بنائی جاتی ہیں، لوگوں کی تربیت کی جاتی ہیں اور تو اور بنگلہ دیش نے بھی اپنے لوگوں کو فلڈ پروف گھر اور عمارتیں بنانے کی ترغیب دی ہے، اپنا نہری نظام بہتر کیا اور ڈرینج سسٹم کو موثر بنایا ہے۔صرف ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن اور اتھارٹی ہی نہیں بنائی بلکہ لوگوں کے ساتھ مل کر نچلی سطح پرآگاہی پھیلانے کا کام بھی کیاہے، اپنے انفراسٹرکچر میں بہتری پیدا کی۔ہماے ملک میں بھی ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانوں کی بڑی وجہ درختوں کا کٹنا ہے تواس طرف سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے، ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایاجانا چاہئے۔ حادثات کی صورت میں لوگوں کے جان سے جانے کی ایک بڑی وجہ چھتوں اور عمارتوں کا گرنا ہے،لوگوں میں شعور پیدا کرنا چاہئے، عمارتوں اور مکانوں کی تعمیر ممکنہ قدرتی آفات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جائے اور ساتھ ہی ساتھ ان عمارتوں یا گھروں کی مستقل مرمت کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہئے۔تعمیراتی قواعد پر بھی سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے ، اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ معاملات کا عارضی حل ڈھونڈنے کی بجائے دیرپا اقدامات کی طرف توجہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ارباب اختیار کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ملک میں بسنے والوں کو ناگہانی آفات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ متعلقہ محکموں کو اپنی روش تبدیل کرتے ہوئے فرائض خوش اسلوبی سے سر انجام دینے چاہئیں، تاکہ ایسے حادثات کا مقابلہ کرنے کے لئے انسانی سطح پر جو بھی انتظامات کیے جا سکتے ہیں وہ تو مکمل ہوں۔

طوفان کے بعد کئی گھنٹے تک وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی ڈھنڈیا پڑی رہی۔ الیکٹرانک میڈیا ان کو ’’تلاش‘‘ کرتا رہا، جب وہ سوموار کی سہ پہر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچے تو ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ انہوں نے بڑی سختی سے اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں، میرا کام انتظام چلانا اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے سسٹم کو متحرک کرنا ہے۔ میں اپنے فرائض ادا کررہا تھا، نوشہرہ میں زخمیوں کی عیادت کی، اس کے بعد انتظامی مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ فوج کو بلایا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا(کی ہدایات) کے مطابق پروگرام نہیں بناتے، بلکہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی یہ بات یکسر بے وزن نہیں ہے، سسٹم افراد کی رونمائی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چیف ایگزیکٹو کی دوڑ بھاگ نظر آنے سے مصیبت کی شدت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔عمران خان بھی معمول کی سرگرمیاں ختم کرکے خیبر پختونخوا کی طرف روانہ نہیں ہو سکے۔ ان کی اہلیہ ریحام خان البتہ سرگرم رہیں۔ اس پر وفاقی وزیر اطلاعات کو انگلی اٹھانے (بلکہ چبھونے) کا موقع مل گیا۔ بہرحال مخالف جو بھی طعن توڑیں اور حامی جو بھی جواز پیش کریں، پاکستان کے مخصوص حالات میں قیادت سے جو توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، اس کی وجہ ہی سے شاید سسٹم پوری شدت سے بروئے کار نہیں آپاتا، یا یہ کہیے کہ اس پر زور ہی نہیں دیا جاتا۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کو آج کی تباہی کے حوالے سے مسلسل سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور غم میں شرکت کی توقع رکھنے والے ان سے جواب طلب کرتے رہیں گے۔

مزید : اداریہ