پچاس منٹ دورانیہ کے پروگرام "جی آیا نوں " کی مقبولیت

پچاس منٹ دورانیہ کے پروگرام "جی آیا نوں " کی مقبولیت
پچاس منٹ دورانیہ کے پروگرام

  


لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز نے پچاس منٹ دورانیے کا پروگرام "جی آیا نوں " شروع کیا ہے ۔پروگرام کے میزبان یاسر قریشی اور حنا سحر ہیں۔اس پروگرام کے 5 بڑے سیگمنٹ ہیں جن میں 1۔موسیقی،2۔ پنجابی شاعری3۔ مزاحیہ خاکے 4۔ جمناسٹک 5۔ شوقیہ فنکار ۔ موسیقی والے سیگمنٹ میں صوفیانہ کلام اور فولک میوزک شامل ہیں۔پروگرام کے پرڈیوسر سیف الدین سے پروگرام کے بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان بنیادی طور پر پابچ بڑے صوبوں کی اکائی ہے جب میں خیبرپختوبخواہ ، بلوچستان ، سندھ ، گلگت بلتستان اور پنجاب کے نام شامل ہیں ۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ثقافتی درسم ورواج اور معاشرتی مختلف علاقائی زبانوں کی اکائی ہے اس میں درج بالا صوبوں کی ثقافتی اور زبان کے لحاظ سے تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ اپنے علاقے میں بسنے والے لوگوں کا معاشرتی حسن اپنے اپنے رنگ بکھیرتا ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کی تہذیب اور ثقافت ، رسم ورواج کی تاریخ بھی صدیوں پر محیط ہے۔ پنجاب کی دھرتی لوک داستانوں کیلئے اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس میں سسی پنوں ، سوہنی مہیوال، لیلیٰ مجنوں ، ہیر رانجھا وغیرہ بہت مشہور ہیں اس خطے کے بسنے والے لوگ پنجابی بولتے ہیں پنجابی ادب باقاعدہ درس وتدریس کا حصہ بن چکا ہے ۔

اس خطے کے بسنے والے لو گوں کی پنجاب ادب پربڑی گہری نظر ہے ان لوگوں نے ایسے باکمال فن پارے تخلیق کئے ہیں ان کے لکھے گئے فن پاروں پر اب ادب سے جڑے لوگ ڈاکٹریٹ(پی ایچ ڈی) کر رہے ہیں ۔ ان بڑے شعراء ادیبوں میں حضرت وارث شاہ، بابا بلھے شاہ، میاں محمدبخش، سلطان عارفین باہو، فریدالدین گنج شکر، بابافرید مٹھن کوٹ کے نام شامل ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف ثقافت ، رسم ورواج معاشرتی ، طبقات ، بلکہ روحانیت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن اپنے اس صوبے کے بسنے والے لوگوں کیلئے شروع سے ہی پروگرام تشکیل دیتا آرہا ہے جس میں فنون لطیفہ ، رسم ورواج ، ثقافتی ورثہ، شادی بیاہ، فولک وزڈیم ، موسیقی (ٹھمری، جوڑی، چمٹہ،بانسری،پیانو) کے امتزاج سے بہت کچھ ریکارڈکیا جاتا ہے۔ سیف الدین نے کہا ہے ماضی بعید میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز نے پروگرام ٹاکرہ، پنجندمیلہ، رونق میلہ پروگرام ریکارڈ کئے ہیں اب جی آیانوں پروگرام جاری ہے پاکستان ٹیلی ویژن جہاں ٹیلنٹ ہانٹنگ کے فرائض نبھاتا ہے وہیں اس طرح کے پروگرام بہت بڑا سورس ہوتے ہیں گراس روٹ لیول کے باصلاحیت فنکاروں ادیبوں کوچینل کی نشریات کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اس قسم کے پروگراموں میں فنکار حصہ لے کر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر فن وثقافت کو اجاگر کرتے ہیں دستکاری ، ہنرمندی، کشیدہ کاری ، شیشہ کاری، غرضیکہ تمام شعبہ جات کے ماسٹر لوگ اس پروگرام میں حصہ لیتے ہیں انکے تخلیق کردہ نادر نمونے بھی پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں جس سے ناظرین بہت زیادہ دلچسپی اور ملکی سطح پر زرمبادلہ کمانے کے کام آتے ہیں ۔ پروگرام کاکنیوس بہت وسیع ہے سیف الدین نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پروگرام سے پہلے بہت سے ڈرامے جگ بیتیاں اور مختلف نوعیت کے پروگرام ریکارڈ چکا ہوں لیکن اس پروگرام میں دلچسپی کا باعث میرے لئے یہ بنا کہ پنجاب کی عظیم ثقافت کو قریب سے جانچنے کا موقع ملا۔سیف الدین سے ملاقات کے موقع پر پروگرام کے میزبانوں یاسر قریشی ، حنا سحر سے بھی ملاقات ہوئی یاسر قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی وی وہ واحد ادارہ ہے جو کمرشلائزیشن کے ساتھ ساتھ فنکاروں کی صلاحیتوں کا بھی معترف ہے ایسے پروگرام بھی تشکیل دیتا ہے جس سے فنکا روں ، صداکاروں ، تخلیق کاروں کو اپنی صلاحیت اجاگر کرنے کا ملکی سطح پر موقع دیتا ہے میں یہ بات بھی کہوں گا کہ کئی ایک پروگرام گفتگو برائے گفتگو ہوتے ہیں جبکہ جی آیا نوں ایکٹوٹی بیسڈ پروگرام ہے اس میں مجھے ہر وقت متحرک رہنا پڑتا ہے ویسے تومیں بہت سے پروگراموں کی میزبانی کر چکا ہوں لیکن پروگرام جی آیا نوں کر کے اس بات کا ادراک ہو ا کہ پنجابی ثقافت میں بڑی گہرائی ہے اور آج کی نئی نوجوان نسل کو اپنی قیمتی ثقافت کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے تاکہ اس کے اسلوب اور انسانی اقدار کو فروغ ملے حنا سحر نے کہا کہ میں پی ٹی وی انتظامیہ کی مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھے اس پروگرام کی میزبانی کا موقع دیا مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

مزید : کلچر