چلی کے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کی صفائی جاری

چلی کے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کی صفائی جاری

سنتیاگو (اے پی پی) چلی کے آتش فشاں ’’کالبو کو‘‘ سے نکلنے والی راکھ تلے دبے مکانوں و دیگر علاقوں کی صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پچاس سال تک خاموش رہنے والے اس آتش فشاں نے گزشتہ ہفتے کے دوران لوگوں کی زندگیوں میں دو دفعہ بے چینی پیدا کی جس کے بعد انہیں گھروں کو چھوڑنا پڑا مگر نتیجہ صرف راکھ کی صورت میں نکلا۔ بدھ اور جمعرات کے روز اس آتش فشاں سے راکھ اگلنے کے بعد قرب و جوار کے 65 سو سے زائد رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔ راکھ کے بادل اتنے بلند تھے کہ پڑوسی ملک ارجنٹینا بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور وہاں بعض مقامی و بین الاقوامی پروازویں منسوخ کرنا پڑیں۔ گزشتہ روز راکھ سے متاثرہ 1500 افراد کی آبادی پر مشتمل قصبے لارنینڈا میں فوجی جوانوں نے علی الصبح صفائی کا عمل شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ناربل واقعہ میں حکومت نے فوری طور حرکت میں آکر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ متعلقہ ایس ایچ او کو فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے پر منسلک کردیا اور مجسٹریل انکوائری شروع کی جبکہ محکمانہ سطح پر بھی تحقیقات ہورہی ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس ہلاکت کی تحقیقات فوری طور مکمل ہوگی اور ملوث اہلکاروں کوعبرتناک سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی قیام امن کے حوالے سے کوشاں ہے اور عوام کو احساس تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ نوجوانوں کو باعزت طریقے سے روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی ایجنڈا پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور ریاست کے ہر کونے میں یکساں ترقی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے ایجنڈا اور پروگرام کو لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کے مشکلات کے ازالہ کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں ۔اس موقعہ پر پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی بیروہ ڈاکٹر شفیع احمد وانی ،ضلع صدر بڈگام اور ممبر قانون ساز کونسل سیف الدین بٹ ،ممبر اسمبلی گلمرگ عباس احمد وانی کے علاوہ زونل صدر بیروہ گلزار بیگ نے بھی تقاریر کیں جبکہ پارٹی کے سینئر کارکن محمد اکبر وار اور ثنا اللہ شیخ بھی موجود تھے۔

مزید : عالمی منظر