چین کے ساتھ معاہدوں میں ٹیکسٹائل سیکٹرکونظراندازکردیاگیا

چین کے ساتھ معاہدوں میں ٹیکسٹائل سیکٹرکونظراندازکردیاگیا

 کراچی(این این آئی)پاکستان کاٹن جنرزفورم کے چیئرمین احسان الحق نے بتایاہے کہ چینی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران چین کے ساتھ پاکستان کے 46 بلین ڈالر کے معاہدے طے پائے ہیں لیکن حیران کن طور پر ان معاہدوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر بارے ایک ڈالر کا معاہدہ بھی طے نہیں پایا جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ برس کے دوران پاکستان سے چین کو روئی، سوتی دھاگے اور گرے کلاتھ کی برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ سامنے آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کاٹن ایئر 2014-15 کے دوران پاکستان میں روئی کی 1 کروڑ 49 لاکھ بیلز پیدا ہونے کے امکانات ہیں جو ملکی تاریخ میں پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس کی سب سے زیادہ تعداد ہے جس کی بڑی وجہ بہترین موسمی حالات اور بی ٹی کاٹن کے تصدیق شدہ بیج کی بہتر فراہمی بتائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر شکیل احمد خان نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں کاشتکاروں کو کپاس کی کاشت کیلیے تقریبا 72 فیصد تصدیق شدہ کاٹن سیڈ دستیاب ہو گا جو ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے جس سے توقع ہے کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کا بہترین اور زیادہ تصدیق شدہ بیج دستیاب ہونے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ سامنے آئے گا۔ احسان الحق نے بتایا کہ بھارت جہاں قبل ازیں 2014-15 کے دوران 4کروڑ سے زائد روئی کی بیلز کی پیداوار متوقع تھی اب اطلاعات کے مطابق بھارت میں روئی کی پیداوار 3 کروڑ 85 لاکھ بیلز کے لگ بھگ متوقع ہے  جبکہ امریکا میں بھی 2015-16 کے دوران کپاس کی کاشت پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم کاشت ہونے کے بارے میں رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جس سے آئندہ کچھ عرصے کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں کافی تیزی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد نے پی سی جی اے کی اس اپیل کو ڈسمس کر دیا ہے جس میں مرکنٹائل ایکس چینج میں روئی کی ہیج ٹریڈنگ (سٹہ بازی)شروع نہ کرنے کے بارے میں اپیل کی گئی تھی جس کے باعث اب خدشہ ہے کہ مرکنٹائل ایکسچینج میں روئی کی ہیج ٹریڈنگ شروع ہونے سے پاکستان میں کپاس کے کاروبار کو چند خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سب سے زیادہ نقصان زمینداروں کو ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔احسان الحق کے مطابق توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں کپاس کی نئی فصل کی آمد میں 4سے 5ہفتوں کی متوقع تاخیر اور جننگ فیکٹریوں میں روئی کے اسٹاکس غیر معمولی طور پر کم ہونے کے باعث رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔

مزید : کامرس