قومی اسمبلی ،سپیکر کا سیکرٹری کیڈ اور کیبنٹ ڈویژن عدم موجودگی برہمی کا اظہار

قومی اسمبلی ،سپیکر کا سیکرٹری کیڈ اور کیبنٹ ڈویژن عدم موجودگی برہمی کا اظہار

اسلام آباد ( آئی این پی ) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور سیکرٹری کیڈ کی آفیشل گیلری میں عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب اور پارلیمانی سیکرٹری کیڈ راجہ جاوید اخلاص کو احکامات جاری کیے ، دونوں سیکرٹریوں یا ان کی جگہ مجاز افسران کی 5 منٹ میں حاضری یقینی بنائیں ورنہ پارلیمنٹ دونوں سیکرٹریوں کے خلاف ایکشن لے گی ، انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ سیکرٹری ایوان میں حاضر نہیں ہونگے تو پھر پارلیمنٹ کے ارکان کو گھروں میں بیٹھ جانا چاہیے ، حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 16 ارب سے زائد کی سکیمیں جاری کی گئیں ، موجودہ حکومت ہر رکن کو حلقہ مین ترقیاتی منصوبوں کیلئے 2 کروڑ روپے فراہم کرے گی ، فنڈز کی دستیابی پر رقم بڑھائی جاسکتی ہے ۔ پیر کو وقفہ سوالات کے میں حکومت کی طرف سے وزیر مملکت آفتاب شیخ ، پارلیمانی سیکرٹری جاوید اخلاص ، پارلیمانی سیکرٹری ریلوے سید عاشق حسین نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیئے ۔ خالدہ منصور کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت شیخ آفتاب نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران پیپلزورکس پروگرام کے تحت 16 ارب روپے جاری کیے گئے موجودہ حکومت پر حلقہ میں 2 کروڑ کے ترقیاتی فنڈز ممبران کو فراہم کرے گی ، اگرچہ یہ فنڈز کم ہیں لیکن ان کو بڑھانے کیلئے مزید وسائل کی ضرورت ہے ، فنڈز دستیاب ہونے پر رقم بڑھائی جاسکتی ہے ۔ سپیکر نے کیڈ اور کیبنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی آفیشل گیلری میں عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے 5 منٹ میں افسران کو گیلری میں حاضر ہونے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ اگر 5 منٹ میں متعلقہ افسران گیلری میں نہ آئے تو ان کے خلاف پارلیمنٹ کارروائی کرے گی ، راجہ جاوید اخلاص نے سپیکر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سولر انرجی پر منتقل کرنے پر مبارکباد پیش کی ، سپیکر نے کہا کہ30 ستمبر تک پارلیمنٹ ہاؤس میں لگنے والا سولر انرجی پلانٹ کام شروع کردے گا، سپیکر نے اسلام آباد میں پولن الرجی کی وجوہات اور ہسپتالوں کی تعداد بارے سوالوں کے جواب نہ آنے پر بھی شیخ آفتاب کی سرزنش کی اور کہا کہ اتنے سادہ سوالوں کا جواب نہ آنا قابل قبول نہیں ، اگر جواب نہیں دیئے جاتے تو پھر ارکان پارلیمنٹ گھروں میں بیٹھ جائیں ، پارلیمانی سیکرٹری ریلوے عاشق حسین نے فرضانہ قمر کے سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران کرپشن پر 48 مقدمات درج کیے گئے اور 147 ملازمین کو ملازمت سے نکالا گیا ۔ موجودہ حکومت کے دور میں ریلوے کا خسارہ کم ہوا ہے اور منافع میں اضافہ ہوا ہے ۔ عمران ظفر لغاری کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جی ایم ریلوے کو گریڈ 22 دینے کا مقصد ریلوے کے امور کو بہتر انداز میں چلانا تھا اور جب سے ریلوے کے جی ایمکو گریڈ 22 دیا گیا ہے ریلوے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے ، ریلوے سرکلر 1995ء سے بند ہے اور قبضہ مافیا نے ٹریک پر قبضہ کررکھا ہے ۔ منصوبے کی لاگت میں اضافہ کی وجہ سے سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹ گیا ہے ، سرکلر ریلوے کا ٹریک خالی کرانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ، ریلوے کی وزارت مکمل تعاون کیلئے تیار ہے ، سفیاں یوسف کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم منصوبے سے بھگ نہیں رہے ، منصوبے کیلئے صوبائی حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہیں۔خواتین ارکان نے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر واک آؤٹ کیا، جماعت اسلامی کی ایم این اے عائشہ سید نے کہا کہ حکومت کا جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈز دینا اور خواتین کی مخصصو نشستوں پر آنے والوں کو ترقیاتی فنڈز نہ دینا افسوسناک ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جا سکتا، اگر امتیازی سلوک جاری رہا تو عدالت سے رجوع کریں گی، روزانہ اسمبلی سے واک آؤٹ کریں گی۔ پیر کو جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سید نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ حکومت نے جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان سے ترقیاتی سکیمیں مانگیں اور انہیں فنڈز جاری کئے جا رہے ہیں جبکہ خواتین ایم این ایز کو فنڈز جاری نہیں کئے گئے جو کہ افسوسناک ہے، اس پر خواتین ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرتی ہیں۔

مزید : علاقائی