پولیس کار چوری, ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام

پولیس کار چوری, ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام
 پولیس کار چوری, ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی دارلحکومت میں چوری کی وارداتوں میں زیرو سکورکا ٹاسک وزیر داخلہ کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔سی آئی اے کار چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے ناکام ، ایس پی سی آئی اے ، اے آئی جی و دیگر افسران کے معطل اور تبادلے کا جلد امکان، وزیر داخلہ نے دیگر خفیہ اداروں سے پولیس کے کرپٹ افسران کی تفصیل طلب کر لی ہے جبکہ سی آئی اے کے کر پٹ افسران نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہاتھ پاﺅں مارنا شروع کر دیے ہیں۔تفصیل کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے وفاقی پولیس کے افسران کو ایک کڑوا ٹاسک دیا تھا کہ وفاق میں چوری ، ڈکیتی ،کار چوری کی وارداتوں میں نہ صرف کمی ہو بلکہ زیرو ٹاسک دیدیا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ کو ذاتی طور پر معلوم ہوا کہ پولیس کے چند افسران نے اپنے اپ کو ایک ڈان اور مافیا کا ایک سرغنہ بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے چوری و دیگر جرائم میں کمی نہیں آرہی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کویہ بھی بتایا گیا کہ سی آئی اے ،سی آئی ڈی نے 23مارچ سے قبل ایک غیر قانونی طور پر چند غیر ملکیوں کو گرفتار کیا تھا جنہیں غیر قانونی طور پر بھارہ کہو میں 15دن سے زیادہ حراست میں رکھا گیا تھا مگر ان سے کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکے تھے ۔دوسری جانب ایس پی کیپٹن الیاس کو سی آئی اے کا مکمل چارج دیکر شراب فروشوں ، گاڑی چوروں اور رہزنوں کے ڈان کو تقویت پہنچائی گئی کہ مذکورہ ایس پی کے تعلقات اس نیٹ ورک سے کبھی نہ کبھی جڑ ے ہو ئے تھے۔وفاقی وزیر داخلہ نے وفاقی پولیس کے کرپٹ افسران کو وارننگ دی تھی کہ کرائم میں زیر و ریشو لے آئیں مگر پولیس کے کرپٹ ڈان ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کروانے میں رکارٹ پید ا کر رہے ہیں۔

مزید : اسلام آباد