ہائی کورٹ بار کے صدر نے باری سے ہٹ کر اپنا مقدمہ سنوانے کے لئے ڈویژن بنچ کو دھمکی دے دی 

ہائی کورٹ بار کے صدر نے باری سے ہٹ کر اپنا مقدمہ سنوانے کے لئے ڈویژن بنچ کو ...
ہائی کورٹ بار کے صدر نے باری سے ہٹ کر اپنا مقدمہ سنوانے کے لئے ڈویژن بنچ کو دھمکی دے دی 

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر باری سے ہٹ کر مقدمہ کی سماعت نہ کرنے پر ڈویژن بنچ کے روبرو دھونس پر اتر آئے اوراپنی بات منوا کر چھوڑی۔تفصیلات کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس فیصل زمان پرمشتمل ڈویژن بنچ میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اختر نواز گنجیرہ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت ہونا تھی ۔فاضل بنچ پیشی فہرست کی ترتیب کے مطابق مقدمات کی سماعت کررہا تھا کہ اچانک اختر نواز گنجیرہ کے وکلاءصدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی اور حافظ طارق نسیم کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور بنچ سے کہا کہ پہلے ان کی اپیل سنی جائے ، صدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی نے جسٹس عائشہ اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتے بھی دو گھنٹے اس مقدمے میں دلائل دینے کیلئے بیٹھے رہے مگر ان کی باری نہیں آئی ، وہ دوبارہ اس مقدمے میں دوگھنٹے انتظار نہیں کرسکتے کیونکہ انہوں نے ایک جنازے میں شرکت کیلئے جانا ہے جس پر جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں، پیشی فہرست کے مطابق جو مقدمات سماعت کے لئے فکس ہیں، پہلے ان کی سماعت ہوگی کیونکہ باقی وکلاءصاحبان بھی مقدمات کیلئے ہی بیٹھے ہیں ، جس پر صدر ہائیکورٹ بار نے کہا کہ اگر ان کا مقدمہ پہلے نہیں سنا جائیگا تو وہ عدالت کو کسی دوسرے مقدمے کی سماعت بھی نہیں کرنے دیں گے ہم وکلاءسے بھی درخواست کر لیں گے کہ پہلے ان کے مقدمے کی سماعت ہو لینے دی جائے،عدالتی کورٹ آفیسر نے صدر ہائیکورٹ بار کا رویہ نظرانداز کرتے ہوئے ترتیب کے مطابق اگلے مقدمے کیلئے آواز دی مگر کوئی بھی وکیل کھڑا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی وکیل نے صدر ہائیکورٹ بار کے رویے پر اعتراض کیا، جس پرفاضل بنچ نے عدالتی امور کو بدمزگی سے بچانے کے لئے اختر نواز گنجیرہ کے مقدمے کی آواز دی تو حافظ نسیم طارق ایڈووکیٹ نے دلائل دینے شروع کئے ،فاضل بنچ نے حافظ نسیم طارق سے کہا کہ کیا آپ نے 30سال کے کیریئر میں عدالتوں سے دھونس دھاندلی کرنا سیکھا ہے جس پر نسیم طارق نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں کبھی ایسا عمل نہیں کیا ، بعدازاں حافظ نسیم طارق ایڈووکیٹ نے اخترنواز گنجیرہ کو ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ کے عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کیخلاف دلائل دیئے جبکہ صدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی ان کے ساتھ کھڑے رہے، دو رکنی بنچ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید : لاہور