لاہور ہائی کورٹ نے سخت آبزویشنز کے ساتھ وزیراعلیٰ کو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈی جی ایل ڈی اے کے خلاف ریفرنس بھیج دیا 

لاہور ہائی کورٹ نے سخت آبزویشنز کے ساتھ وزیراعلیٰ کو سینئر ممبر بورڈ آف ...
لاہور ہائی کورٹ نے سخت آبزویشنز کے ساتھ وزیراعلیٰ کو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈی جی ایل ڈی اے کے خلاف ریفرنس بھیج دیا 

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے 16سال سے زائد عرصہ تک شہریوں کو ان کی اراضی سے محروم رکھنے اور عدالتی حکم کے باوجود سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کے عدالت میں پیش نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ریفرنس بھیج دیا ہے جس میں نہ صرف درخواست گزاروں کو متبادل اراضی الاٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے بلکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے یہ احکامات 1998ءسے زیر التواءمعاملے سے متعلق شیخ انور سعید کی درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کئے ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ اگر سرکاری افسروں کی حکم عدولی کے معاملے کو نوٹس لئے بغیر چھوڑ دیا گیا تو اس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہوگا اور کوئی بھی دادرسی کے لئے عدالتوں سے مدد نہیں مانگے گا۔حال ہی میں سرکاری حکام نے یہ وطیرہ اپنا لیا ہے کہ وہ نہ صرف عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا تکلف نہیں کرتے بلکہ ہیلوں بہانوں سے عدالتی فیصلوں پر تنقید بھی کرتے ہیں جبکہ حکومتی ادارے اور افسر عدالتی حکم ماننے کے پابند ہیں ۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کو اس کے حق جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا ،اگر حکومت متبادل جگہ فراہم نہیں کرسکتی تو پھر اسے لوگوں سے زمین حاصل کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے ۔عدالت نے اس بات کا بھی سخت نوٹس لیا کہ حکومت کے پاس ان متاثرہ شہریوں کو متبادل جگہ دینے کے لئے کوئی اراضی موجود نہیں ہے ،فاضل جج نے قرار دیا کہ حکومت مختلف منصوبوں اور سڑکوں کی توسیع کے لئے آئے روز لوگوں کی زمینیں ایکوائر کرتی رہتی ہے ،یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے پاس ان لوگوں کو متبادل اراضی دینے کے لئے زمین موجود نہ ہو ،اگر حکومت چھوٹا سا قطعہ اراضی متبادل کے طور پر حاصل کرنے میں اتنی ہی بے بس ہے تو پھر شہریوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔فاضل جج نے مقدمہ کے پس منظر کے حوالے سے قرار دیا کہ 1994ءمیں ایک معاہدہ کے تحت حکومت اور ایل ڈی اے نے لٹن روڈ کی توسیع کے لئے8ہزار625مربع فٹ جگہ جمعیت القریش سے حاصل کی ،اس جگہ پر مسجد اور دکانیں تعمیر کی گئی تھیں۔ان کے عوض انہیں نہ صرف چوبرجی ڈویلپمنٹ سکیم میں8دکانیں الاٹ کی گئیں بلکہ 7لاکھ 54ہزار 114روپے معاوضہ بھی ادا کیا گیا ۔درخواست گزار نے نئی جگہ پر دکانیں اورمسجد تعمیر کرلی ۔ایل ڈی اے نے یہ مسجد اورنئی دکانیں بھی 1998ءمیں مسمار کردیں تاکہ گندے نالے کو وسیع کیا جاسکے ۔کیس کی سماعت کے دوران مئی 2006ءمیں ایل ڈی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر بشری ٰ سلطان نے عدالت میں بیان دیا کہ درخواست گزاروں کو معاوضہ کی ادائیگی کے لئے فنڈز منظور کرلئے گئے ہیں جس پر درخواست نمٹا دی گئی لیکن اس یقین دہانی پر عمل درآمد نہ ہوا تو 2007ءمیں اس درخواست کو دوبارہ بحال کردیا گیا ،2007ءمیں مدعا علیہان نے عدالت میں پھر بیان دیا کہ درخواست گزاروں کی داد رسی کی جارہی ہے اس حوالے سے زمین بھی خرید لی گئی ہے ،درخواست پھر نمٹا دی گئی لیکن دوسری یقین دہانی پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا جس پر درخواست گزار نے کیس کی بحالی کی درخواست دی اور کیس ایک مرتبہ پھر کھل گیا ۔اب ایل ڈی اے کی طرف سے بیان دیا گیا کہ اگرچہ دکانداروں کو متبادل اراضی دینے کا وعدہ نہیں کیا گیا اس کے باوجود حکومت نے اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لئے36لاکھ روپے بورڈ آف ریونیو میں 2006ءسے جمع کروارکھے ہیں تاکہ اس سے اراضی خرید کر درخواست گزاروں کو دے دی جائے لیکن اس وعدہ پر بھی عمل نہیں کیا گیا ،آخر کار عدالت نے 10اپریل 2015کو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کی طلبی کا حکم جاری کیا ۔یہ دونوں افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بورڈ کے حوالے سے ممبر کالونیز کی طرف سے بتایا گیا کہ وہ دیگر دفتری امور میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے جبکہ ایل ڈی اے کے وکیل کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں تو ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی کی پیشی کا کوئی تحریری حکم موصول نہیں ہوا جو کہ حقیقت کے برعکس ہے ۔عدالت نے وزیر اعلیٰ کو ایل ڈی اے کے چیئرمین کی حیثیت سے ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کو متبادل اراضی کی الاٹ منٹ کے لئے خود اقدامات کریں ،عدالت نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس معاملے کو4ماہ میں نمٹا دیا جائے گا ،فاضل جج نے ایل ڈی اے اور بورڈ آف ریونیو کے مذکورہ افسروں کے خلاف عدالتی آبزویشن وزیراعلیٰ کو بجھواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید : لاہور