جوڈیشل کمیشن نے سوالنامہ جاری کرکے تحقیقات کی سمت متعین کردی جو ثبوت 2سال میں اکٹھے نہیں ہوسکے وہ 2دن میں کیسے ہوں گے ؟

جوڈیشل کمیشن نے سوالنامہ جاری کرکے تحقیقات کی سمت متعین کردی جو ثبوت 2سال میں ...
جوڈیشل کمیشن نے سوالنامہ جاری کرکے تحقیقات کی سمت متعین کردی جو ثبوت 2سال میں اکٹھے نہیں ہوسکے وہ 2دن میں کیسے ہوں گے ؟

  


تجزیہ ;۔سعید چودھری 

2013 عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم 3رکنی جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ سیاسی جماعتوں کو ایک سوال نامہ جاری کیا ہے جس میں سوال اٹھائے گئے ہیں کہ 2013ءکے عام انتخابات شفاف تھے یا نہیں ؟ اگر دھاندلی ہوئی تھی تو کیا وہ منظم تھی یا غیر منظم ؟ اور یہ کہ اگر منظم دھاندلی تھی تو اس کا منصوبہ کس نے بنایا تھا اور اس پر عمل درآمد کس نے کیا تھا ۔ جوڈیشل کمیشن نے اس حوالے سے ٹھوس مواد ، دستاویزات بھی طلب کی ہیں جبکہ اس حوالے سے گواہوں کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔کمیشن نے یہ ثبوت پیش کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو دو دن کی مہلت دی جو آج 29اپریل کو ختم ہورہی ہے ۔یہ سوال نامہ جاری کرکے جوڈیشل کمیشن نے اپنی حدود اور تحقیقات کی سمت کا تعین کردیا ہے ،اب فریقین کو انہی حدود اور خطوط کے اندر رہنا ہوگا اور "عمومی تاثر "کے دلائل سے باہر نکلنا ہوگا ۔اب تک دھاندلی کے جو بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ عمومی نوعیت کے ہیں اورچیف جسٹس پاکستان نے اس بات کا برملا اظہار بھی کردیا ہے ۔عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران 126سے زائد مرتبہ اپنے ان الزامات کا اعادہ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری اور سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن رمدے نے باہمی ملی بھگت سے ریٹرننگ افسروں کے ذریعے دھاندلی کروائی اور تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا ،اب انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں 76حلقوں میں دھاندلی سے متعلق مواد پیش کیا ہے ان میں قومی اسمبلی کے 45 اورصوبائی اسمبلیوں کے 31حلقے شامل ہیں ۔انہوں نے ابھی تک جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری اور خلیل رحمن رمدے کے خلاف کوئی مواد پیش کیا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی الزام لگایا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ (ق) کی طرف سے دھاندلی کے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں ایک نئی عدالتی شخصیت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور وہ شخصیت مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال ہیں ۔مسلم لیگ (ق) کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا کا کمیشن کے روبرو کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے ساتھ اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے موجودہ جج (جومسٹرجسٹس عمر عطاءبندیال ہیں)بھی دھاندلی میں شامل تھے ۔اس الزام پر فاضل کمیشن کے رد عمل کواس پیش گوئی کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے کہ فاضل کمیشن ٹھوس شواہد کے بغیر کسی عدالتی شخصیت کے خلاف الزام تراشیاں سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔فاضل کمیشن نے ڈاکٹر خالد رانجھا سے فوری طور پر استفسار کیا کہ آپ کے پاس اس بات کے کیا ثبوت ہیں جس کا ڈاکٹر خالد رانجھا کوئی جواب نہیں دے سکے اور کہا کہ عوام میں تاثر پایا جاتا ہے کہ ایسا ہوا ہے ،جس پر چیف جسٹس پاکستان نے قدر ے سخت لہجے میں انہیں بیٹھ جانے کے لئے کہا اور یہ واضح کیا کہ عمومی تاثر کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہوتے ،اس کے لئے ٹھوس شواہد درکار ہیں ۔یہ حیرت کی بات ہے کہ فریقین کی طرف سے بڑے بڑے وکلاءکمیشن میں پیش ہورہے ہیں اس کے باوجود کمیشن کو بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ جو باتیں کی جارہی ہیں وہ عمومی نوعیت کی ہیں ،آپ لوگ شواہد لائیں ۔اب تک پیش کئے جانے والے مواد میں انتخابی عملے کی بدانتظامی کو ہی دھاندلی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ اس حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ بد انتظامی اگر انتخابی نتائج کی تبدیلی کا باعث نہ ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔علاوہ ازیں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے سیکشن 9(2)میں واضح کردیا گیا ہے کہ 2013ءکے انتخابات سے متعلق انتخابی عذرداریاں یا ان کے فیصلے کے نتیجہ میں سامنے آنے والی اپیلوں یا پھر ان سے وابستہ کارروائی سے متعلق کسی بھی الیکشن ٹربیونل یا عدالت پر اس جوڈیشل کمیشن کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور انتخابی عذرداریوں اور انتخابی اپیلوں کو نافذ العمل قانون کے مطابق ہی نمٹایا جائے گا۔آرڈیننس کے سیکشن 10میں یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے باوجود ان تمام قوانین ،آئینی آرٹیکلز اور قواعد و ضوابط کو فوقیت حاصل رہے گی جن کے تحت 2013ءکے عام انتخابات کروائے گئے تھے۔آرڈیننس کی ان شقوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن ان معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا جو الیکشن ٹربیونلز میں زیر سماعت ہیں ۔عمران خان نے جن 76حلقوں میں دھاندلی کے عمومی نوعیت کا جومواد کمیشن میں پیش کیا ہے ،ان میں سے زیادہ تر کا انتخابی عذرداریوں میں جائزہ لیا جاچکا ہے یا لیا جارہا ہے ۔یہ حلقے ان 132انتخابی عذرداریوں میں زیر بحث آچکے ہیں جو مجموعی طور پر الیکشن ٹربیونلز میں دائر کی گئی تھیں ۔اب یہ سوال بھی جوڈیشل کمیشن کے سامنے آئے گا کہ کیا الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد ان حلقوں کے تھیلے دوبارہ کھولے جاسکتے ہیں ۔اگر مذکورہ آرڈیننس کو دیکھا جائے تو الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد ان الزامات کا کمیشن دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتا کیوں کہ ایسا کرنا جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق آرڈیننس کی شق9اور 10کے منافی ہوگا ۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کے روبرو اب تک جو مواد دیا گیا ہے اس سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک پہاڑ کھودنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس مشقت کے اختتام پر کوئی خزانہ ملنے کی توقع نہیں ہے اور یہ بات خارج ازامکان نہیں کہ پہاڑ کی کھدائی کے بعد وہی محاورے والا نتیجہ سامنے آئے ۔تاہم اگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے منظم دھاندلی کے ٹھوس شواہد سامنے لائے گئے تو پھر کمیشن کا فیصلہ مختلف ہوسکتا ہے ۔جو جماعتیں 11مئی 2013ءسے دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہیں اور وہ 2سال میں شواہد اکٹھے نہیں کرسکیں وہ دو دن میں شواہد کہاں سے لائیں گی ۔باالخصوص تحریک انصاف تو دھاندلی الزامات کی تحقیقات کے لئے شروع دن سے ہی مطالبات کرتی چلی آرہی ہے ،یہ جماعت ٹھوس شواہد کی موجودگی کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہے ،اس کے باوجود تحریک انصاف کی طرف سے اب تک کمیشن میں پیش کئے جانے والے مواد کی نوعیت عمومی تاثر پر مبنی رپورٹ جیسی ہے ،کمیشن کے سربراہ مسٹر جسٹس ناصر الملک نے واضح طور پر کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے داخل کروائی گئی اکثر دستاویزات عمومی نوعیت کی ہیں ،درخواست گزار الزامات کے اس حوالہ سے ٹھوس شواہد پیش کریں تاکہ کمیشن کی تحقیقات کسی نتیجہ تک پہنچ سکیں۔

مزید : تجزیہ