مشرق وسطی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو 5 سو ارب ڈالر کا نقصان

مشرق وسطی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو 5 سو ارب ڈالر کا نقصان

  

واشنگٹن (اے پی پی)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے 2016 میں مشرق وسطی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو ممکنہ طورپر 490 ارب سے 540 ڈالر تک نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق مشرق وسطی اور وسطی ایشیا میں آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مسعود احمد نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کو 2015 میں تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے 390 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ، تیل کی قیمت میں کمی جاری رہنے کا مطلب، اس علاقے کے ملکوں خاص طور پر سعودی عرب جیسے ملکوں، کہ جن کا اقتصاد ابھی تک تیل کے پیسے سے بہت زیادہ وابستہ ہے، کے بجٹ خسارے میں اضافہ اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا 72فیصد بجٹ تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے اور امکان ہے کہ رواں سال اسے نوے ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2015 میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی اقتصادی ترقی کی اوسط شرح تین اعشاریہ تین فیصد رہی جو رواں سال کم ہو کر1 اعشاریہ 8 فیصد ہو جائے گی۔اس رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ 2016 میں ایران کی داخلی ناخالص پیداوار میں اضافہ 4 فیصد اور 2017 میں3 اعشاریہ7 فیصد رہے گا۔

مزید :

کامرس -