سندیسے آتے ہیں، سندیسے جاتے ہیں

سندیسے آتے ہیں، سندیسے جاتے ہیں
 سندیسے آتے ہیں، سندیسے جاتے ہیں

  

1993ء کا ماحول دوبارہ بن گیاکیا؟ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے نہ بھی آتا تو ان دنوں اس قسم کا ماحول بننا تھا۔ اندرون خانہ جو کھچڑی پک رہی تھی وزیراعظم نے اس کی ہنڈیا چوراہے میں پھوڑ ڈالی۔ اپنے ٹی وی خطاب میں انہوں نے کئی سوالات کا جواب مانگا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ وہ پہلے کبھی ڈرے نہ اس مرتبہ خوف کا شکار ہونگے۔ اس تقریر کا لب لباب محض اتنا تھا کہ اس مرتبہ تو ’’اچھابچہ‘‘ بن کر چل رہا ہوں اس کے باوجود آپ کو پسند نہیں آرہا تو پھر کر لیں جو کرنا ہے۔

2014 ء کے عمرانی و قادری مشترکہ دھرنوں سے بچ نکلنے کے بعد بظاہر یوں لگتا تھا کہ اب آگے چین ہی چین ہے۔ سیاسی معاملات کا گہرا ادراک رکھنے والے حلقوں کی رائے مگر مختلف تھی۔ سو ایسا ہی ہوا ،چند افسران کی ریٹائرمنٹ کے باوجود حکومت کو زیادہ ہموار راستہ فراہم نہیں کیا گیا۔ نظر نہ آنے والے کئی معاملات کے علاوہ مخصوص میڈیا کا رویہ بھی اس حوالے سے گویا ایک پیمانہ تھا۔سول حکومت پر کبھی مسلسل اور کبھی وقفے وقفے سے تابڑ توڑ حملے کیے جاتے رہے۔ میڈیا مینجمنٹ کے حکومتی ماہرین نے اپنا ’’فن‘‘ آزما کر مخصوص میڈیا کو رام کرنا چاہا تو علم ہوا کہ ’’مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘ جو کوئی بھی اس سب کے پیچھے تھا وہ اتنا طاقتور تھا کہ کٹھ پتلیوں کے ذریعے کمانڈو صحافت کرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومتی ٹیم کو میڈیا کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا بار بار جائزہ لینا پڑا مگر اس بہانے سے ہی ان کو علم ہو گیا کہ اب الرٹ رہنا ہو گا۔

پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ سامنے آنے کے ساتھ ہی کرپشن میں ملوث اعلیٰ فوجی افسروں کیخلاف ہونے والی ایک پرانی کارروائی کو ایک بار پھر سے میڈیا میں پیش کیا گیا تو حکومت سخت دباؤ میں آ گئی۔ ٹائمنگ ہی کچھ ایسی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ایف سی بلوچستان کے ان افسروں کے خلاف جو الزامات سامنے آئے اس کے حوالے سے ایک بار پھر کئی سوالات پیدا ہوگئے۔ شاید اسی نوع کی ممکنہ صورت حال سے بچنے کے لئے سزاؤں کی خبر عسکری حکام نے براہ راست جاری نہیں کی۔ میڈیا معاونین میں سے ایک کے ذمہ لگایا گیا کہ اس خبر کو تازہ ترین اور اپنی کاوش ظاہر کر کے میدان مار لے۔ انتہائی قیمتی گاڑی فراری کے حادثے میں کرنل اور میجر کی ہلاکت کے بعد کیا کیا واقعات رونما ہوئے۔ جرمانے اور سزائیں کیا تھیں۔ یہ تمام باتیں عوامی دلچسپی کا امر بنی ہوئی ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر اس حوالے سے مزید معلومات کی گنجائش نہ نکل سکے ہاں، مگر اتنا تو کرنا چاہیے تھا کہ لیک کرائی جانے والی خبر سے یہ حصہ حذف کرا دیا جاتا کہ سزا یافتہ افسروں کو پنشن اور میڈیکل کی سہولتیں میسر رہیں گی۔قوانین اس امر کی اجازت بھی دیتے ہوں تو بھی انہیں عوام کے سامنے لانا مناسب نہیں کہ غالب اکثریت اچھا خیال نہیں کرتی۔

حکومت پر مزید دباؤ ڈالنے کیلئے عمران خان نے تحریک انصاف کے یوم تاسیس پر اسلام آباد میں جلسہ کر ڈالا۔ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ حکومت مخالف بعض اور حلقوں کو بھی یقین تھا کہ اس موقع پر دھرنے کا اعلان ضرور ہو گا۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری حکام بھی اس حوالے سے چوکنا تھے۔ کپتان نے رائے ونڈ جانے کی دھمکی دہراتے ہوئے اتوار کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ عام تاثر یہی ہے کہ رائے ونڈ میں دھرنا ہو گا یا نہیں ہو گا اس کا فیصلہ کپتان کو نہیں کرنا ہے۔ اس سلسلے میں لائحہ عمل مرتب کر کے انہیں صرف اطلاع دی جائے گی۔ شیخ رشید تو یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ ہم مال روڈ کے راستے رائے ونڈ پہنچیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ پہلے مال روڈ فتح ہو گا پھر رائے ونڈ کا قلعہ سر کیا جائے گا۔ فرزند راولپنڈی نے خانہ جنگی کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔ خود کو شاطر سمجھنے والے شیخ صاحب کو کیا یہ سادہ سی بات معلوم نہیں کہ اگر خدانخواستہ واقعی خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو گئی تو آپ خود کیونکر محفوظ رہ پائیں گے؟ قوم سے خطاب کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے جس انداز میں عوامی رابطہ مہم شروع کی ہے اسے کئی حلقے کھلا پیغام تصور کررہے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ لیگی کارکنوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس بار اسلام آباد دھرنے جیسے ٹریلر نہیں چلنے چاہئیں کہ ہر طرف احتجاجی مخالفین کا راج نظر آئے۔ جواب دیا جائے، بھرپور جواب۔شاید اسی لیے ابھی سے بنی گالہ اور زمان پارک کے گھیراؤ کی جوابی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس امر کے سنگین خدشات بہرطور موجود رہیں گے کہ اگر رائے ونڈ میں وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ کا محاصرہ کر کے ’’خوش کلامی‘‘ کا مظاہرہ کیا گیا تو لیگی کارکنوں کے ردعمل کو روکنا مشکل سے مشکل تر ہو جائے گاکیونکہ اب حکومتی پارٹی کی پالیسی بھی تبدیل ہو چکی۔ہو سکتا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس پوری طرح سے بروئے کار نہ آئے، کیونکہ اسلام آباد والے پچھلے دھرنے کے دوران بعض سرکاری افسران، بلوائیوں کے بجائے الٹا پولیس والوں پر برستے رہے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ مورال ابھی تک بحال نہ ہوا ہو مگر یہ اور بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔ رائے ونڈ میں کوئی ڈی چوک نہیں۔ راستے روک کر مسلم لیگ(ن) کے گڑھ میں گڑ بڑ کی کوشش کوئی بھی رنگ اختیار کر سکتی ہے۔شاید دباؤ بڑھانے کیلئے کنٹرولڈ میڈیا میں طاہر القادری کے انٹرویوز کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ کچھ لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر پاکستان ’’مدعو‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے احتجاج میں قادری ٹائپ عناصر کی شمولیت سے بعض دوسرے گروپ نہ چاہتے ہوئے بھی ن لیگ کے دفاع کے لئے سامنے آسکتے ہیں۔ ڈی چوک والے دھرنے میں بھی کئی بار ایسا ہوتے ہوتے رہ گیا تھا ،اگر واقعی ایسا ہو گیا تو پھر صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

ماحول کو ایک حد سے زیادہ بگڑنے سے بچانے کی مشترکہ ذمہ داری ہے ورنہ تحریک انصاف اینڈ کمپنی کے میدان میں آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف خود سامنے کود پڑے ہیں۔ حکومت مخالفین کا ایک ٹولہ یہ پرچار کرتا بھی پایا جارہا ہے کہ وزیراعظم کو ہر صورت رخصت ہونا ہو گا ورنہ ’’کاکڑ فارمولے‘‘ پر عمل ہو گا، یعنی فوج ان سے زبردستی استعفیٰ طلب کرے گی۔ ایسی باتیں کرنے والے ملکی اداروں کے ہمدرد اور دوست ہر گز نہیں ہو سکتے۔ ان کم فہموں کو یہ بھی علم نہیں کہ کاکڑ فارمولے کے تحت باہم برسرپیکار اسٹیبلشمنٹ کے گاڈ فادر غلام اسحاق خان اور منتخب وزیراعظم نواز شریف دونوں کو جانا پڑا تھا۔ اس مرتبہ دوسرا کون ساتھ جائے گا۔ ویسے بھی یہ خالصتاً خام خیالی ہے۔ 1999 ء کی فوجی بغاوت کے دوران نواز شریف نے باوردی جرنیلوں اور مسلح اہلکاروں کی موجودگی میں استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت جان سے مارے جانے کا شدید خطرہ بھی موجود تھا۔

ملک خانہ جنگی تو کیا کسی بڑی احتجاجی تحریک کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔ پاک چین اقتصادی راہداری تمام اندرونی اور بیرونی ملک دشمن طاقتوں کا مشترکہ ہدف ہے۔ اس راہ داری کی اہمیت پہلے ہی کم نہ تھی کہ اب مزید بڑھ گئی ہے۔ دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ کے حالات جس سمت میں جارہے ہیں ان سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنے مالی معاملات کا بوجھ خود ہی اٹھانا ہو گا۔ فوری معاشی استحکام کے تمام راستے اسی راہداری سے جڑے ہوئے ہیں۔ تمام ملکی اداروں کو بھی اس منصوبے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے۔ سو ملک کے اندر کسی بھی قسم کی گڑ بڑ اور امن و امان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اپوزیشن وزیراعظم کو رخصت کرنا ہی چاہتی ہے تو اسے عدالتی کمیشن سے فیصلہ حاصل کرنا ہو گا۔ دوسرا کوئی بھی راستہ بہت بڑی خرابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

سب کے احتساب کے لئے ایک ہی ادارہ ہونا چاہیے۔ قانون سازی کی جائے اور ملک لوٹنے والوں کو بلاتفریق کٹہرے میں لا کر جیلوں میں ڈالا جائے ۔رقوم کی وصولی کر کے چھوڑ دینا کوئی حل نہیں۔ برائی کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے بے رحمانہ اقدامات کرنے ہونگے۔ مکررعرض ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں اگر وزیراعظم پانامہ لیکس کے حوالے سے سب سے پہلے اپنے خاندان کو عدالتی کمیشن کے روبرو پیش کردیں تو اچھی بات ہو گی ،وہ بری ہوں یا سزا پائیں،سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رکھ کر سب کو احتساب کی بھٹی سے گزارا گیا تو کسی کے پاس اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہے گی۔ موقع اچھا ہے، پوری قوم ایک ہی نعرہ بلند کرے’’احتساب، احتساب ،سب کا احتساب ‘‘

مزید :

کالم -