جمعیت کا درپردہ مطالبہ خارج شدہ طلباء کو بحال کرانا ہے،پروفیسر ڈاکٹر لیاقت

جمعیت کا درپردہ مطالبہ خارج شدہ طلباء کو بحال کرانا ہے،پروفیسر ڈاکٹر لیاقت

  

لاہور( خبرنگار) پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا ہے کہ جمعیت کا درپردہ مطالبہ کیمپس میں تشدد کے واقعات میں ملوث خارج شدہ طلباء کو بحال کرانا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گابلکہ قانون شکنی میں ملوث طلباء کے خلاف مزید کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔ وائس چانسلر آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 42 ہزار سے زائد طلباء و طالبات پڑھتے ہیں جبکہ احتجاجی مظاہرہ میں چند درجن طلباء بھی شریک نہ ہو سکے جو کہ مظاہرے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں شریک افراد کی اکثریت پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم نہیں ہیں اور اپنی شناخت چھپانے کے لئے انہوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔

یونیورسٹی کی خواتین اساتذہ کے مطابق احتجاج میں شریک طالبات بھی پنجاب یونیورسٹی کی نہیں تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ جمعیت آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے کتاب میلے کے انتظامی امور میں شرکت چاہتی ہے اور ان کا یہ درپردہ مطالبہ بھی کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ مظاہرہ میں جمعیت کے مطالبات غیر حقیقی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اساتذہ، ملازمین اور طلباء و طالبات کی حفاظت کے لئے گیٹ بند کئے گئے ہیں اور کارڈز چیک کئے جاتے ہیں جمعیت کے کارکن گیٹ کھلوا کر یونیورسٹی کی سکیورٹی میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں اور سب کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات سے کوئی پارکنگ فیس وصول نہیں کی جا تی ہے اور ان کا یہ مطالبہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرلز ہاسٹل کے میس میں کھانے سے متعلق شکایات کا وجود بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پاس کسی بھی یونیورسٹی کے مقابلے میں پاکستان کا سب سے بڑا بسوں کا فلیٹ ہے اور انتظامیہ ہر سال نئی بسیں خرید رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -