خارجہ سیکرٹریوں کے ایک اور بے نتیجہ مذاکرات

خارجہ سیکرٹریوں کے ایک اور بے نتیجہ مذاکرات

  

پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں نے منگل کو نئی دہلی میں ملاقات کی جس میں کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لئے جامع مذاکراتی عمل کی بحالی کے علاوہ قیدیوں، ماہی گیروں اور مذہبی سیاحت سے متعلق امور پر تبادل�ۂ خیال ہوا اور تعلقات کو آگے بڑھانے اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا گیا، پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی بلوچستان اور کراچی میں پاکستان مخالف سرگرمیوں پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اعزاز چودھری نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی نہیں دی جائے گی اِس مقصد کے لئے بھارت کو تحریری درخواست کرنا ہو گی۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہم منصب کی توجہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی جانب مبذول کرائی جس میں42پاکستانی شہید ہو گئے تھے۔ پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود تحقیقاتی رپورٹ فراہم نہیں کی جا رہی، پاکستان نے ایک بار پھر یہ رپورٹ طلب کی۔ پاکستان نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مرکزی کردار کرنل پروہت اور دیگر ملزموں کی رہائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا معاملہ اٹھاتے ہوئے پٹھان کوٹ واقعے پر جلد اور با معنی پیش رفت اور ممبئی حملہ کیس کی سماعت میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دو طرفہ تعلقات پر دہشت گردی کے اثرات سے انکار نہیں کر سکتا، پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ بھارت کو نشانہ بناتے ہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تخریبی سرگرمیوں سے امن کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اعزاز چودھری نے بھارتی ہم منصب پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو مسلسل، بامعنی اور جامع مذاکرات پر کاربند رہنا چاہئے۔ یہ عمل آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اس کے لئے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو جلد پاکستان کا طے شدہ دورہ کرنا چاہئے۔

اعزاز احمد چودھری ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے بھارت گئے ہوئے ہیں یہ کانفرنس افغانستان میں امن و استحکام کے لئے ہے۔ایسی ہی ایک کانفرنس اسلام آباد میں ہو چکی ہے، جس میں شرکت کے لئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان آئی تھیں اور یہاں انہوں نے دوطرفہ مذاکرات میں بھی شرکت کی تھی اور خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان بھی کیا تھا تاہم عملاً یہ مذاکرات آج تک بحال نہیں ہو سکے، نئی دہلی میں بھی پاکستانی اور بھارتی خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی سائیڈ لائن پر محض تکلفاًہو گئی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جامع مذاکرات باقاعدہ طور پر کب بحال ہوں گے۔ اس دوطرفہ ملاقات کو تو ’’نشستند، گفتند، و برخاستند‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے ایسی بہت سی نشستیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا نہ جانے مزید کتنی بے نتیجہ کانفرنسیں ہوں گی، ملاقات میں باتیں بھی وہی پرانی دہرائی گئی ہیں جو دونوں ملکوں کا معلوم موقف ہے، گویا پاکستان اور بھارت اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے میں ایک رسمی سی ملاقات میں کسی پیش رفت کی نہ تو امید کی جا سکتی تھی اور نہ ہی اس قسم کی کوئی چیز واقع ہوئی، بھارتی میڈیا نے تو مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دے دیا ہے۔

پاکستان نے مذاکرات میں اپنا یہ موقف دھرایا کہ ’’را‘‘ کی کارروائیاں تعلقات میں رکاوٹ ہیں، پاکستان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے پر بھی زور دیا، جبکہ بھارت نے کہا کہ تخریبی سرگرمیوں سے امن کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ بھارت کو نشانہ بنا رہے ہیں، اب اگر دونوں ملکوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے، اپنے اپنے اِس موقف پر موجود رہتے ہوئے بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے اور مذاکرات جاری رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر اِن نکات پر بات رُک جائے تو مذاکرات کا سلسلہ بھی رُک جائے گا۔ اِس لئے یہ ضروری ہے کہ میز پر بیٹھنے سے پہلے دونوں ملکوں کے نمائندے طے کر لیں کہ انہوں نے مذاکرات کی رُکی ہوئی گاڑی کو دوبارہ چلانا ہے اس کا بھی کوئی راستہ نکالنا ہو گا ورنہ اگر سمجھوتہ ایکسپریس یا ممبئی دہشت گردی پر رکی ہوئی بات کو آگے نہیں بڑھانا تو پھر نہ تو مذاکرات کی بحالی کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے کی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی تنازعہ ہے، باقی تمام تنازعات اِسی سے جڑے ہوئے ہیں دونوں ملکوں میں بداعتمادی کا جو عالم ہے وہ بھی کشمیر کے بڑے بنیادی مسئلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اس لئے دونوں ملکوں کو نیک نیتی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وقت گزاری کے لئے جو بھی مذاکرات ہوں گے اُن کا نتیجہ وہی نکلے گا جو اب تک ہونے والے مذاکرات کا نکلتا رہا ہے، آج اگر پٹھان کوٹ میں ہونے والی دہشت گردی نے جامع مذاکرات بحال نہیں ہونے دیئے تو کل کوئی اور ایسا ہی واقعہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ تو پورے خطے میں سرگرم عمل ہیں، وہ اول تو مذاکرات شروع نہیں ہونے دیتے اور اگر شروع ہو جائیں تو انہیں سبوتاژ کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اگر دونوں ملکوں نے انہی ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنا ہے اور ان کا یرغمال بنے رہنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے موقوف کر دیا جائے یہ تو کوئی بات نہیں کہ سال ہا سال کے تعطل کے بعد مذاکرات شروع ہوں تو چند نشستوں کے بعد پھر کسی نہ کسی بہانے سے ملتوی یا ختم ہو جائیں اور یہ مذاق سال ہا سال تک چلتا رہے، اس بے کار مشق کا کیا فائدہ؟ نہ جانے کتنے سیکرٹری آئے اور چلے گئے، کتنے وزرائے خارجہ مذاکرات کرتے کرتے اپنی زندگیوں کی شام کر گئے اور مذاکرات کا سلسلہ ہے کہ کشمیر کے معاملے میں تو ہنوز ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا، چند قیدیوں کی رہائی اور چند ماہی گیروں کو چھوڑنے کے لئے اس طرح کے مذاکرات کرنا تو مذاق کے مترادف ہے، یہ کام تو اس کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں بہتر یہ ہے کہ مذاکرات کامل سنجیدگی سے ہوں اور اگر اُٹھک بیٹھک سے کام لینا ہے تو ایسے مذاکرات ختم کر دیئے جائیں۔

مزید :

اداریہ -