پورا بل دینے والوں کو سزاکیوں؟

پورا بل دینے والوں کو سزاکیوں؟

  

وزیراعظم محمد نوازشریف نے پھر کہا ہے کہ 2018ء تک بجلی کی کمی پوری ہو جائے گی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔وزیراعظم نے یہ خوشخبری زیر تکمیل منصوبوں کی وجہ سے دی ہے لیکن گرمی میں اضافہ ہوتے ہی ملک بھر میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگیا۔ شہروں میں بھی چھ گھنٹے سے زیادہ بجلی بند ہوتی ہے جبکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مرمت کے نام پر فیڈروں کی 8،8گھنٹے تک بندش الگ ہے۔ دیہات کی حالت زیادہ خراب ہے جہاں پندرہ سے سولہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جبکہ وزیر مملکت بجلی و پانی عابد شیر علی نے دعویٰ کیا کہ لوڈشیڈنگ میں کمی ہوئی ہے اور زیادہ لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے۔ان سب باتوں اور حالات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ بڑی عجیب سزا ہے جو عوام کو دی جا رہی ہے، جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں یہ جرم کرنے والوں کو الگ کرنے، پکڑنے کی بجائے پورے علاقے کو سزا دیناکہاں کا انصاف ہے؟ اور پھر مسلم لیگ سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتی رہی وہ یاد کیوں نہیں۔جہاں تک موجودہ لوڈشیڈنگ کا تعلق ہے تو اس کی کہانی بھی چھپ چکی کہ نجی پاور کمپنیوں اور فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو ان کی استعداد کے مطابق نہیں چلایا گیا حالانکہ فرنس آئل سستا ہو جانے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار فی یونٹ پانچ روپے 30پیسے رہ گئی تھی۔ یہ عجیب اور افسوسناک انکشاف ہے۔ وزراء اور وزیراعظم کو صورت حال کا ادراک ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ فرنس آئل سستاہے تو نجی پاور کمپنیوں سے زیادہ بجلی حاصل کریں، عوام کو وعدوں پر نہ ٹرخائیں ۔

مزید :

اداریہ -