داتا دربار کے سٹینڈ پر اوور چارجنگ ، جگہ جگہ نذرانوں کی وصولی

داتا دربار کے سٹینڈ پر اوور چارجنگ ، جگہ جگہ نذرانوں کی وصولی

  

 لاہور(محمد نواز سنگرا)داتا دربار پر جوتوں پر اوور چا ر جنگ اور لیڈیز اہلکاروں کی طرف سے زائرین سے نذرانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔دیگیں بانٹنے والے زائرین کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے محکمے کے ملازمین پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے لگے۔ جگہ جگہ پارکنگ اور پارکنگ فیس 10کی بجائے20روپے لی جانے لگی جبکہ ٹریفک کا جام رہنا معمول بن گیا۔دربار کے صحن میں سائے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے لگا۔تفصیلات کے مطابق داتا دربار پر زائرین کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔دربار کے سامنے اور اطراف میں تجاوزات کی بھر مار کی وجہ سے ٹریفک کا جام رہنا بھی معمول بن چکا ہے جس وجہ سے دربار کے سامنے سے گزرنا محال ہو گیا ہے دوسری طرف سیکیورٹی کا نظام بھی صرف دربار کے اندر تک محدود کر دیا گیا ہے اور دربار کے باہر موجود افراد کی چیکنگ کا مناسب نظام نہیں ہے اور بھکاریوں ، نشئیوں کے روپ میں جرائم پیشہ افراد کی بھر مار ہے۔معلوم ہوا ہے کہ داتا دربار خواتین کی تعیناتی کیلئے ایک پرکشش جگہ بن گئی ہے اور محکمے کی خواتین سفارشوں سے داتا دربار پر تعیناتی کراتی ہیں کیونکہ وہاں ملک بھر سے زائرین کی بڑی تعداد روزانہ آتی ہے جن سے نذرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور گارڈ اور دیگر خواتین زائرین کی جیبوں سے پیسے نکلوانے کا ہر حربہ اختیار کرتی ہیں ،جبکہ جوتوں پر بھی اوور چارجنگ کی جاتی ہے اور ایک جوتے کے 5کی بجائے10روپے لیے جاتے ہیں۔پینے کا صاف پانی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔اس حوالے سے جب ایڈمنسٹریٹر داتا دربار نور محمد اعوان سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ دربار پر زائرین کو مکمل سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور کہیں سے بھی کرپشن کی شکایت آئے تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جاتا ہے جس وجہ سے حالات کافی بہتر ہیں۔دربار کے باہر سیکیورٹی کو یقینی بنانا پولیس کی ذمہ داری ہے اور دربار کے احاطے میں دیگیں باٹنے والوں کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا اور دربار کے باہر زائرین کو خود محتاط رہناچاہیے۔جبکہ جوتوں پر اوور چارجنگ کسی صورت بھی برداشت نہیں کی جاتی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -