اراضی ریکارڈ سینٹر فیروز والہ کا انچارج سرکاری فیسوں کا ذاتی استعمال کرنے لگا

اراضی ریکارڈ سینٹر فیروز والہ کا انچارج سرکاری فیسوں کا ذاتی استعمال کرنے ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم مینجمنٹ سسٹم کے اراضی ریکارڈ سنٹر فیروز والا میں دو دو سال سے زیر التواء رکھے جانے والے انتقالات کی تاخیرکی وجوہات سامنے آگئیں،پٹواریوں کی جانب سے تصدیق کئے جانے والے انتقالات کی مد میں 5لاکھ روپے سے زائد کی سرکاری فیسیں سروس سنٹر انچارج کے ذاتی استعمال میں خرچ ہونے لگی۔ِ انتہائی باثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹر میں 9موضع جات کے علاوہ بھی دیگر پٹواریوں کی جانب سے انتقالات کی تصدیق کی مد میں اکٹھی ہونے والی رقم لاکھوں میں پہنچ چکی ہے جو کہ ہر ماہ باقاعدگی سے سروس سنٹر انچارج محمد اجمل کے ذاتی استعمال میں خرچ ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے اگر کوئی پٹواری رقم کا مطالبہ کر تا ہے تو سروس سنٹر انچارج کی جانب سے اسے مختلف حیلے بہانوں سے ٹرخایا جارہا ہے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر متعدد پٹواریوں نے آگاہی دی ہے کہ مذکورہ سروس سنٹر انچارج کا کہنا ہے کہ سروس سنٹر میں ریونیو سٹاف کو ہر طرح کی آزادی اسی شر ط پر ملے گی اگر وہ اپنی طے شدہ فیس کا مطالبہ نہ کریں گے ۔پٹواریوں کا مزید کہنا تھا کہ تحصیل فیروز والہ کے پٹواریوں کو باوضو حلف اٹھایا جائے اور اس پریکٹس کے حوالے سے پوچھا جائے تو تمام حقیقت عیا ں ہوجائے گی۔مذکورہ سروس سنٹر انچارج ہمیں یہ بھی کہتا ہے کہ اس رقم کی ادائیگی تو آپ کے لئے مذاق ہے اس کی آپ کو کیا ضرورت ہے جبکہ موجودہ حالات میں بھی مذکورہ سروس سنٹر انچارج کے پاس لاکھوں روپے وصولی اور پٹواریوں کی جانب سے فرضی دستخط کی وصولیاں بھی کروائی گئی ہیں۔ دوسری جانب سروس سنٹر انچارج اراضی ریکارڈ سنٹر فیرو ز والہ محمد اجمل کا کہنا ہے کہ الزامات بے بنیاد ہیں کوئی بھی انتظامی آفیسر انکوائری کرلے تو کوئی ڈر خوف نہیں۔پٹواریوں کے گھروں میں جا کر پیسے دینے سے تو قاصر ہوں۔ہر ماہ 500 سے زائد انتقالات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی مد میں تقریباٗ 5لاکھ روپے کے قریب پیسے اکٹھے ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ پٹواری آکے لے جاتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -