اپوزیشن سے مل کر تحقیقات کا شریقہ کا طے کریں ، حکومت سے کا احتساب کریگی ، سیاسی وکلاء راہنما

اپوزیشن سے مل کر تحقیقات کا شریقہ کا طے کریں ، حکومت سے کا احتساب کریگی ، ...

  

لاہور(جاوید اقبال ‘شہزاد ملک)حکومت اور اپوزیشن ملکر جلد پانامہ لیکس کی تحقیقات اور احتساب کا طریقہ کار طے کریں گو مگوں کی کیفیت نے ملک کو بے یقینی کا شکار کردیا ہے پوری قوم اس وجہ سے تذبذب کا شکار ہے جس کے باعث ملکی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے اس پر سیاست کی بجائے عملی طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اس امر کا اظہار سیاسی راہنماؤں ‘ وکلاء تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اپنے اپنے رد عمل میں کیا۔اس پر گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین اور خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن کی حکومتی ٹرمز آف ریفرنس پر ہم مطمئن نہیں ہیں حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کے جواب کا انتظار کررہے ہیں۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما سینٹر کامل علی آغا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی ٹی او آرز مناسب نہیں اگر انہی ٹی او آرز کے تحت کمیشن بنے گا تو یہ صرف خانہ پری ہو گا تجویز دوں گا کہ مل بیٹھ کر ٹی او آر میں کمزوریوں کی نشاندہی کریں اور حکومتی نمائندے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ٹی او آرز طے کریں جبکہ کمیشن کیلئے تحقیقات کا وقت بھی مقرر کیا جائے۔پروفیسر سینٹر ساجد میر نے کہا کہ بے لاگ احتساب پر سب متفق ہیں اس ملک میں سب سے زیادہ احتساب سیاستدانوں کا ہوا ہے تاہم مالی کے ساتھ اخلاقی کرپشن بھی ایک سنگین جرم ہے کون نہیں جانتا کہ پانامہ لیکس پر سب سے زیادہ شور مچانے والے اخلاقی دیوالیہ پن کا سب سے زیادہ شکار رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت سرد مہری ختم کرے پانامہ لیکس اور احتساب کا طریقہ کار طے کرے اس معاملے پر تاخیر کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کی صورت حال طاری ہے جس کے برے نتائج سامنے آنے کا امکان ہے حکومت یہ بتائے کہ پانامہ لیکس سے انہوں نے وزیراعظم کا نام کس طرح نکلوایا اور اس کے لئے کیا زرائع استعمال کئے گئے ہیں قوم کو بتایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے کہا کہ حکومت سب کا احتساب کرے گی اور بے رحم احتساب ہو گا بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں کا بھی اور شور مچانے والوں کا بھی احتساب ہو گاگندی سیاست کرنے والوں کو عوام نے پہلے بھی مسترد کیا اب بھی کریں گے ۔پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پانامہ لیکس نے جو انکشافات کئے ہیں اس پر وزیراعظم اخلاقی طور پر پابند ہوں چکے ہیں کہ وہ قوم کو جواب دیں کہ حقائق کیا ہیں الٹا اپوزیشن پر حملہ کرکے وہ اپنی طرف اٹھنے والی انگلیوں کا رخ تبدیل نہیں کر سکتے ۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اس کا طریقہ کار بھی جلد طے ہو جانا چاہئے جیسے جیسے اس میں تاخیر ہو رہی ہے تو قوم تذبذب میں مبتلا ہو رہی ہے حکومت کو کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا وگرنہ اس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا ہو گا۔مسلم لیگ (ن) کے سینٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ پانامہ لیکس اور احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سیاست کررہی ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بڑھ چڑھ کر سامنے آ رہی ہیں سب سے زیادہ متحرک پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری اعتزاز احسن ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر ان پر مسلم لیگ کے وفا دار ہونے کا جو داغ تھا اس کو وہ دھونا چاہتے ہیں لیکن یہ داغ ایسے نہیں دھل جاتے ہیں۔وکلاء رہنما اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ احتساب اور پانامہ لیکس دو الگ الگ ایشو ہیں بعض سیاسی رہنما انہیں آپس میں مکس کررہے ہیں اگر آرمی چیف اپنے اثاثے ڈکلیر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں تو پھر سیاست دان اپنے اثاثوں کا اعلان کیوں نہیں کررہے ہیں وزیراعظم کو جانا ہو گا۔

مزید :

علاقائی -