حکومت نہیں چاہتی پاناما لیکس کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات شروع ہوسکیں، شہزاد چودھری

حکومت نہیں چاہتی پاناما لیکس کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات شروع ہوسکیں، شہزاد ...

  

جدہ (بیورورپورٹ) سیاسی اور دفاعی امور کے ممتاز تجزیہ نگار ائیروائس مارشل شہزاد چوہدری نے کہا کہ کیا ملک کی تاریخ میں ایسا عدالتی کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ جو ملک کی ستر سالہ تاریخ کے گھپلوں کی تحقیقات کرے؟ مقامی اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بظاہر حکومت نہیں چاہتی کہ پاناما لیکس کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات شروع ہوسکیں جس سے سیاسی تنازعہ شدید تر ہوجائے گا اور حزب اختلاف سڑکوں پر نکل آئے گی اور اگر مسلم لیگ ن نے اپنی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو اس کا مطلب مطلوبہ نظام سے تصادم کا ارتکاب ہوگا اور حکومت کا کسی نہ کسی طرح خاتمہ ہوجائے گا۔ شہزادچوہدری نے کہا کہ پاناما لیکس حقیقی دستاویزات ہیں۔ اسی وجہ سے جن افراد کے نام اس حوالے سے سامنے آئے ہیں وہ اس کی تردید نہیں کررہے ہیں اور بعض ممالک میں طوفان برپا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 22 اپریل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں جو پاناما لیکس کے امور کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر شدید غم و غصے کا شکار دکھائی دئیے جو ان کے احساس جرم کا غماز ہے۔ اگر وہ پہلے ہی خطاب میں کمیشن کی تشکیل کا اعلان کردیتے تو حالات خراب نہ ہوتے۔ شاید چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ترکی کے دورے سے واپسی پر یکم مئی کو یا تو کمیشن کی سربراہی سے انکار کردیں یا حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ کمیشن کی شرائط کار تبدیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خود کو اور اپنے اہل خانہ کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس کمیشن کی یہ ذمہ داری مقرر کرے کہ ان تحقیقات کو اس حد تک محدود رکھے، کہ جن افراد کا نام ان لیکس میں سامنے آیا ہے۔ ان جملہ افراد کے اثاثوں اور دولت کو قانونی یا غیر قانونی ہونے کی تحقیق کرے، مگر جس انداز میں انہوں نے کمیشن کے ذمہ 1947ء سے لے کر اب تک کے عام کرپشن کے واقعات اور حکومتیں معزول کئے جانے کے سیاسی سانحات اور جمہوری حکومتوں کی برطرفی کے امور کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ان کی طرف سے ایک سنگین سیاسی غلطی کا ارتکاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فی الفور اس کمیشن کی شرائط میں تبدیلی نہ کی تو ان کی یہ غلطی حکومت کی برطرفی کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید :

علاقائی -