سادہ سے معاہدہ میں بھی پنجاب حکومت بحث کرنے سے قاصر ہے ، لاہو ہائیکورٹ

سادہ سے معاہدہ میں بھی پنجاب حکومت بحث کرنے سے قاصر ہے ، لاہو ہائیکورٹ

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد وحید نے ضلعی حکومتوں کے فنڈز میں کرپشن کی آڈٹ رپورٹس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش نہ کرنے کے خلاف درخواست پر حکومتی وکلاء کی طرف سے بحث مکمل نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت بحث سے گریز کر رہی ہے اگر آئندہ سماعت پر جواب داخل نہ کرایا گیا تو یکطرفہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔فاضل جج نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب میاں محمود الرشید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے شیراز ذکاء ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ضلعی حکومتوں کے فنڈز میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے لیکن پنجاب حکومت ضلعی حکومتوں کے فنڈز کی آڈٹ رپورٹس کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش نہیں کر رہی ہے، گورنر پنجاب کہہ چکے ہیں کہ آڈٹ رپورٹس کمیٹی کے روبرو پیش کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی کہ بحث مکمل کرنے کے لئے انہیں مزید مہلت دی جائے جس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سادہ سے معاملے میں بھی پنجاب حکومت بحث کرنے سے قاصر ہے، ہر مرتبہ سرکاری وکیل مہلت مانگنے آجاتے ہیں، عدالت نے مزید سماعت 9 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن کو بحث مکمل کرنے کا آخری موقع دے دیا۔

مزید :

علاقائی -