پانامہ لیکس، احتساب، پیپلزپارٹی بھی بٹ گئی، راجا پرویز اشرف نے استعفے کا مطالبہ کر دیا

پانامہ لیکس، احتساب، پیپلزپارٹی بھی بٹ گئی، راجا پرویز اشرف نے استعفے کا ...

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پانامہ لیکس کے مسئلہ پر حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان ٹی او آرز پر محاذ آرائی تو جاری ہی ہے کہ خود پیپلزپارٹی کے اندر اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیق کا طریق کار اور مسئلہ باہمی اتفاق رائے سے حل ہو جائے اور تحقیقات کے بعد ذمہ دار احتساب کی زد میں آئیں تاکہ اس کے باعث جمہوریت کو کوئی نقصان نہ ہو، جبکہ ایک سابق وزیراعظم اور بلاول بھٹو کے مشیر راجہ پرویز اشرف نے بڑے جذباتی انداز میں وزیر اعظم محمد نوازشریف سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم مستعفی ہو کر احتساب کا سامنا کریں۔ دوسری طرف سینٹ کے چیئرمین اور پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما میاں رضا ربانی کو آئین کی فکر ہے وہ کہتے ہیں کہ آئین سے چھیڑ چھاڑ یا اس سے انحراف نقصان دہ ہوگا۔ ان حالات میں پیپلزپارٹی حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں سے مل کر حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے کہ وہ جوڈیشل کمشن کے لئے ضابطہ کار باہمی مشاورت سے بنائے یعنی حزب اختلاف کی جماعتوں کی رائے بھی شامل ہو ان جماعتوں کا پہلا موقف تو یہ ہے کہ تحقیق اور تفتیش کا سلسلہ پہلے وزیر اعظم سے شروع کیا جائے اور باقی حضرات یا شخصیات کے لئے ایک الگ کمشن بنا لیا جائے۔ دوسری طرف سے واضح جواب ہے کہ حکومت نے طریق کار اور ٹی آر اوز عدالت عظمیٰ کو بھیج دیئے ہیں اب اگر حزب اختلاف کے پاس متبادل تجاویز ہیں تو وہ بھی عدالت عظمیٰ کو پیش کر دے اور پھر کمشن جو بھی طریق کار طے کرے اسے تسلیم کر کے اس پر عمل کیا جائے۔ حکمران جماعت (حکومت) نے دائرہ کار بڑھا دیا ہے اور ’’حتساب سب کا‘‘ نعرہ لگا کر کہا ہے کہ تحقیق کر لی جائے اور جو بھی غلط ثابت ہو وہ سزا وار ہو۔

اس سلسلے میں عجیب صورت حال بن گئی ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کرپشن ختم کرو، کرپٹ افراد کو سزا دو کے نام سے باقاعدہ تحریک شروع کر دی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کراچی سے کرپشن مخالف ایک پانچ روزہ مارچ شروع کیا ہے جو پنجاب کی سرحد پر آ کر اختتام پذیر ہوگا اور یہ اتوار سے پہلے ہو جائے گا کہ اتوار کو لاہور میں جلسہ ہے۔ یوں متحد ہونے کے ساتھ ساتھ الگ الگ جدوجہد بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا تصور ذرا مختلف نظر آتا ہے وہ پاناما لیکس اور احتساب کے مسئلہ پر حزب اختلاف کا الگ موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں جس کی رو سے مخالف جماعتوں کی تسلی ہو۔ عدالتی تحقیق بھی ہو اور پارلیمینٹ کی بالا دستی برقرار رہے۔ جمہوریت چلتی رہے۔ دوسری طرف حکومتی ارباب کا موقف اب پارلیمینٹ کی موافقت میں بھی ہے۔ تاہم طریق کار دوسرا ہے حزب اقتدار کو بھی پارلیمینٹ کو اسی طرح ترجیح دینا چاہئے تھی جیسے دھرنوں کے وقت دی گئی تھی۔

اب سینٹ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ کوئی مقدس گائے نہیں اور احتساب سب کا ہونا چاہئے اس کے لئے تو طریق کار وہی ہے کہ پارلیمینٹ احتسابی ادارہ بنائے میاں رضا ربانی نے بھی ایک ہی ادارے کی تجویز دی ہے۔ حزب اقتدار کو پارلیمینٹ سے ایسے ادارے کے لئے منظوری لینے میں کیا رکاوٹ ہے اس وقت تو ماحول بھی مناسب ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پانامہ لیکس والوں کی طرف سے وزیر اعظم محمد نوازشریف کا نام واپس لینے سے حکمران جماعت خود کو بہتر پوزیشن میں تصور کرنے لگی ہے۔ یہ خیال کر کے اپوزیشن سے مکالمہ ختم کر دینا غیر مناسب ہی نہیں خطرناک بھی ہوگا کہ ایسے ہی جلسے جلوس اور مظاہرے تحریک کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی بھی تصادم کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

غور فرمائیں تو لندن میں وزیر داخلہ چودھری نثار نے برطانوی ہم منصب تھریسا مے سے ملاقات کی اور یہ یقین دلایا ہے کہ منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے سات آٹھ روز میں بہت کچھ سامنے آئے گا اس اثناء میں یہ خبر بھی ہے کہ پولیس نے منی لانڈرنگ کیس کی فائل کراؤن پراسیکوشن کے حوالے کر دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں عدالتی کارروائی شروع ہونے والی ہے جبکہ الطاف حسین سے سکاٹ لینڈ یارڈ والوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں دو گھنٹے تک سوالات کئے ہیں۔

جہاں تک اس حوالے سے اب تک کی اطلاعات ہیں تو یہ کیس پاکستان میں زیر حراست تین ملزموں کی گرفتاری اور بیانات سے بہت واضح ہے۔ نہ معلوم چالان کیوں نہیں پیش کیا جا رہا اور دونوں حکومتوں کے تفتیشی ادارے باہم مل کر فیصلہ کیوں نہیں کر پاتے کہ سماعت کہاں ہو گی۔ شاید چودھری نثار اس حوالے سے بھی کچھ طے کر کے آئیں کیونکہ وہ آٹھ دس دن کی بات کر رہے ہیں۔

حالات اب بھی پیچیدہ اور سیاسی راہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور سیاسی اکابرین کی ذہانت اور سنجیدگی کا تقاضہ کرتے ہیں، سیاسی عمل کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور قومی جماعتوں کو علاقائی جماعتوں میں تبدیل ہونے سے بچانا ہوگا۔ جس نے کھایا اگر اس کے پیٹ سے نکل آئے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ سید خورشید شاہ کی بات پر غور کریں، مفاہمتی عمل کے ذریعے جائز تحقیق اور احتساب کا اہتمام کریں۔

مزید :

تجزیہ -