مریض کی ہلاکت ریلوے کیر نز ہسپتال کے سامنے لاش رکھ کر ورثا کا احتجاج ، ڈاکٹروں پر غفلت کا الزام

مریض کی ہلاکت ریلوے کیر نز ہسپتال کے سامنے لاش رکھ کر ورثا کا احتجاج ، ...

  

 لاہور(بلال چودھری) ریلوے کیرنز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریض کی ہلاکت پر ورثا نے متوفی کی لاش کو ہسپتال کے سامنے رکھ کر ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا ،اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور انصاف کی فراہمی کے وعدے کے ساتھ مظاہرین پرُ امن طور پر منتشر ہو گئے ۔نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متوفی انورکے بیٹے زاہد ،بھائی ،اہلیہ اور دیگر مظاہرین نے بتایا کہ متوفی نے ریلوے میں 40سال تک ملازمت کی اور اب ریٹائرڈ تھا۔ ان کو ہرنیا کا مسئلہ تھا اورآپریشن کروانے کے لیے ان کی ضدپر وہ انہیں ریلوے کیرنز ہسپتال میں لیکر آئے ،حالانکہ ہم ان کا علاج شہر کے دیگر ہسپتالوں میں کروانا چاہتے تھے ۔ایک ماہ قبل ہسپتال انتظامیہ نے ان کو آپریشن کی تاریخ دی اورپھر آپریشن کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو گئی جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اس وقت جب متوفی کا پیٹ کھلا ہوا تھا موبائل ٹارچ کی روشنی میں آپریشن جاری رکھا اور بعد ازاں ہسپتال کے وارڈ میں منتقل کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ مریض نہایت بے چینی محسوس کر رہا تھا جس پر ہم نے ان کو میو ہسپتال میں منتقل کرنے کی بات کی لیکن ڈاکٹروں نے ان کے صحیح ہو جانے کی ہمیں یقین دہانی کروائی جبکہ گزشتہ روزوہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے ۔متوفی کے لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے خلاف متوفی کی لاش کو ہسپتال کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد انہیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کے ساتھ منتشر کر دیا۔اس حوالے سے ایم ایس ریلوے کیرنز ہسپتال سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران لائٹ گئی تھی لیکن اسی وقت بیک اپ جنریٹر چلا دیا گیا تھا ۔مریض کو شوگر ،ہیپا ٹائٹس اور جگر کا مرض تھا اس حوالے سے اس کا آپریشن کیا گیا جو کہ کامیاب تھا ۔ڈاکٹروں یا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کوئی غفلت نہیں برتی گئی ہے ۔

مزید :

علاقائی -