خاتون کا اغواء ، 3سال بعد بھی نامنز د کے خلاف مقدمہ درج نہ ہو سکا

خاتون کا اغواء ، 3سال بعد بھی نامنز د کے خلاف مقدمہ درج نہ ہو سکا

  

 لاہور(وقائع نگار) سندر کا رہائشی 3سال قبل بیوی کے اغوا ہونے کے بعد مقدمہ کے اندراج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ۔پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے پر انصاف کی اپیل لے کر دفتر’’ پاکستان‘‘ پہنچ گیا ۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ شخص محمد رفیق نے بتایا کہ وہ لوہاراں کھو سندر کا رہائشی ہے 2010میں اس نے ہنجروال کی رہائشی روبینہ سے شادی کی ، جس سے اس کے دو بچے مریم اور زاہد پیدا ہوئے ۔اس نے موقف اختیار کیا کہ 3سال قبل 2013میں اس کی بیوی کو ملزمان نے اغوا کر لیا جس کے مقدمہ کے اندراج کے لیے تھانہ سندر میں اس نے درخواست دی لیکن پولیس کی جانب سے اس سے کوئی تعاون نہیں کیا گیا اور پولیس اہلکار ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے اس کو دھکے مار کر تھانہ سے نکال دیتے ہیں اور تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کی بیوی کا کوئی سراغ نہیں لگ سکا ہے ۔اس نے الزام عائد کیا کہ اس کو شک ہے کہ اس کی بیوی کو اس کے بہنوئی نذیر کے بھائی اکرم اور اس کے برادر نسبتی عامر نے نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر اغوا کیا ہے ۔محمد رفیق نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر کے اس کو انصاف فراہم کیا جائے اور سندر پولیس کے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔اس حوالے سے تھانہ سندر میں رابطہ کیا گیا تو پولیس کا موقف تھا کہ ایسی کوئی درخواست ان کے پاس نہیں آئی ہے اگر آئی ہوتی تو ضرور کارروائی کی جاتی ۔

مزید :

علاقائی -