بیرون ملک رقم منتقلی سے روکنے کیلئے موثر قانون موجود ہی نہیں

بیرون ملک رقم منتقلی سے روکنے کیلئے موثر قانون موجود ہی نہیں

  

لاہور(سپیشل رپورٹر) سٹیٹ بینک نے پانامالیکس کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دولت بیرون ملک منتقلی سے روکنے کا کوئی موثر قانون نہیں ،سٹیٹ بنک سے اجازت لے کر5لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کئے جا سکتے ہیں اور اجازت نہ لیں تو جتنی مرضی پیسے باہر لے جائیں اس میں رکاوٹ کوئی نہیں ہے جبکہ ماہرین کے مطابق قانون کے تحت پاناما لیکس کی دستاویزات صرف ساٹھ ملک حاصل کر سکتے ہیں جن میں پاکستان شامل نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو پانامہ لیکس کے معاملے پر بحث کی گئی ہے اور اجلاس کے دوران سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے یہ انوکھا انکشاف کیا ہے کہ سٹیٹ بینک کی اجازت سے صرف 5لاکھ ڈالر باہر لے جانے کی قانونی اجازت ہے اور اگر کوئی اجازت نہیں لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق جتنی رقم چاہے لے جائے اس میں کوئی قانونی قدغن نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ کیا سٹیٹ بینک پاناما لیکس کی تحقیقات کرسکتا ہے جس پر ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے اسٹیٹ بینک اتھارٹی نہیں اور ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین بھی موجود ہیں لیکن خواہش ہے کہ متعلقہ اتھارٹی کی معاونت کرسکیں۔ قانونی ماہرین نے کمیٹی کو بتایا کہ قانون کے تحت پاناما لیکس کی دستاویزات صرف ساٹھ ملک حاصل کر سکتے ہیں پاکستان ان میں شامل نہیں۔ 1999 سے پہلے کی معلومات لینے کا کوئی قانون موجود ہی نہیں.ان انکشافات پر ارکان کمٹی حیرت زدہ رہ گئے ۔اجلاس کے دوران پاناما لیکس کا ذکرآنے پر مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے پاناما لیکس کے بارے میں بریفنگ پراعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس پر کمیشن بننے کے بعد کمیٹی میں اس معاملے کو اٹھانا درست نہیں، اس لئے اس معاملے کو کمیشن کے سامنے ہی اٹھایا جائے۔

مزید :

علاقائی -