لیہ میں قیامت کے اسباب ۔۔۔ حقائق؟

لیہ میں قیامت کے اسباب ۔۔۔ حقائق؟
 لیہ میں قیامت کے اسباب ۔۔۔ حقائق؟

  

لیہ میں قیامت گزر رہی ہے۔ خوف و ہراس کا ماحول بھی ہے۔ ایک خاموشی بھی ہے۔ اب تک زہریلے لڈوکھانے سے 27لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بیس شدید بیمار ہیں اور تیس ایسے لوگ لیہ کے قریبی دیہات میں پھر رہے ہیں جنہوں نے وہ زہریلے لڈوکھائے ہوئے ہیں، لیکن وہ کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کروانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ علاقہ میں ایک خوف و ہراس پھیل چکا ہے کہ جو بھی ہسپتال جا تا ہے مر جا تا ہے۔ اس لئے ہسپتال نہیں جانا۔ کچھ ایسی ہی عجیب صورت حال ہے کہ جنہوں نے باقی سب کے ساتھ وہ زہریلے لڈو کھائے ہیں۔ وہ ٹھیک ٹھاک پھر رہے ہیں ۔ اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہسپتال سے علاج کروانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ صرف لیموں کا پانی پی رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ان کی حالت ٹھیک ہے۔

واقعہ سادہ ہے کہ لیہ کے قریبی چک میں سڑک کنارے ایک بارہ سال پرانی طارق حلوائی کی دکان نہیں،بلکہ کھوکھا ہے۔ محمد علی جو چک 105 کا رہنا والا ایک مزارعہ ہے کہ گھر پوتا پیدا ہوا تو اس نے لڈو بانٹنے کے لئے طارق کو بارہ کلو لڈو کاآرڈر دیا۔طارق معمول میں روزانہ چھ سات کلو لڈو فروخت کرتا ہے۔ اس نے لڈو بنانے کے لئے دکان میں ایک چھوٹا بھی رکھا ہوا ہے۔ طارق حلوائی کا کھو کھا ہے اس لئے اس نے ساتھ ہی ایک اور دکان اپنا مال سٹور کرنے کے لئے رکھی ہوئی ہے۔ یہ دکان آٹھ سو روپے کرائے پر ہے، لیکن یہ دکان آدھی ایک کھادوالا بھی اپنی کھاد رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بس طارق کا چھوٹا لڈو بنانے کے لئے اپنے سٹور سے مال لینے گیا تو اس نے لڈو میں استعمال ہونے والی ٹاٹری کی جگہ ایک کھاد کی پڑی جسے عرف عام میں چینی پوڑی کہتے ہیں لڈو کی تیار ی میں غلطی سے ڈال دی۔ اس کے ڈالنے سے لڈو کا رنگ تبدیل ہو گیا۔ جسے ٹھیک کرنے کے لئے اس نے اس کی مزید آمیزش کر دی۔ اس طرح لڈو زہریلے ہو گئے۔ طارق کے ہمسائے میں ایک موچی کی بھی دکان ہے۔اس موچی نے مجھے بتایا کہ طارق کو اس دن احساس ہوا کہ لڈو کڑوے ہیں۔ اور ان کا رنگ بھی ٹھیک نہیں، لیکن اس نے کہا چلنے دو آج آرڈر بھی زیادہ ہے اور اس طرح اس نے وہ لڈو فروخت کر دیئے۔

محمد علی جب طارق سے وہ لڈو لے کر گیا تو سب سے پہلے اس کے سارے گھر والوں نے کھائے ۔ اب تک عمر کے آٹھ بیٹے یہ زہریلے لڈو کھانے سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے گھر کے کل 12 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، لیکن عمر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس کے آٹھ بیٹے اور گھر کے12افراد زہریلے لڈو کھانے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وہ مجھے کہتا ہے کہ باؤ جی اگر سب زہریلی لڈو کھانے سے مرے ہیں تو میں نے تو دو لڈو کھائے ہیں۔ میرے دو بیٹوں نے تو صرف آدھا آدھا لڈو کھایا تھا اور وہ مر گئے۔ عمر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ کس قسم کا زہر ہے اور انہوں نے جو ٹیکے اور ڈرپ لگائیں اس سے مریضوں کی حالت سنبھلنے کی بجائے خراب ہو گئی۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ جو بھی ہسپتال جا رہا مر جا تا ہے۔ میں نے اپنے پوتے کو ڈرپ اتار کر ہسپتال سے بھگا دیا۔ وہ بچ گیا ہے۔ اس نے مجھے اپنے پوتے اکبر سے ملوایا۔ اس نے بتا یا کہ وہ یہ دیکھتے ہوئے کہ جو ہسپتال جا رہا ہے مر جا تا وہ ہسپتال سے بھاگ گیا اور آج بھی زندہ ہے۔اس طرح کے تیس لوگ ابھی مختلف دیہات میں پھر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے گزشتہ چند روز سے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کو لیہ بھیجا ہوا ہے تا کہ وہ صورت حال کو سنبھال سکیں۔ بلال یاسین نے لیہ پہنچ کر صورت حال کو کافی سنبھالا بھی ہے۔عوام میں کھلی کچہری لگائی۔ مرنے والوں کی امداد ان کے گھر تک پہنچائی ہے۔ عوام کو ڈاکٹرز سے دوبارہ علاج کروانے پر راضی کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے اب بیس لوگ لاہور جناح ہسپتال زیر علاج ہیں۔ جن کا علاج بھی حکومت پنجاب کروا رہی ہے۔ اسی طرح لیہ میں ایک موبائل ہسپتال بھی پہنچا ہے، جس نے مقامی لوگوں کے خون اور پیشاپ کے ٹیسٹ بھی کرنے شروع کئے ہیں۔حکومت پنجاب کے افسر رانا اعجاز بھی بحالی کے اس کام میں پیش پیش ہیں اور عوام کو واپس علاج کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

تا ہم لوگوں میں نشتر ہسپتال ملتان اور لیہ ہسپتال کے خلاف شدید غصہ ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرز نے ٹھیک علاج نہیں کیا، جس کی وجہ سے لوگ مر گئے ہیں۔ اس کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہئے۔اس واقعہ نے ایک اور محرومی کو اجاگر کیا ہے کہ لیہ میں علاج معالجہ کی مناسب سہولیات میسر نہیں۔ ایک ٹراما سنٹر کا علاج ہوا تھا۔ وہ بھی سیاست کی نظر ہو چکا ہے۔ واحد بڑا ہسپتال نشتر ہسپتال ملتان ہے، جو سو کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ مریض وہاں پہنچتے پہنچتے مر جا تا ہے۔ لیہ پنجاب میں گندم پیدا کرنے وال تیسرا بڑا ضلع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی شو گر مل بھی لیہ میں لگی تھی۔ گوارا کی فصل بھی یہاں ہوتی ہے جو بہت قیمتی فصل ہے۔کپاس بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں سرخ مرچ پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ضلع ہے، لیکن یہاں کوئی انڈسٹری نہیں ہے۔ زیادہ زرعی رقبہ ہے۔ جب سے تعلیم کاروبار بن گئی ہے۔ لیہ میں آٹھ یونیورسٹیاں بن گئی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لئے روزگار کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔

مزید :

کالم -