ایک حقیقی نظریاتی سیاسی کارکن

ایک حقیقی نظریاتی سیاسی کارکن
ایک حقیقی نظریاتی سیاسی کارکن

  

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید ایک ٹی وی پروگرام میں تھے جہاں انہوں نے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کی اس دلیل کو بونگی اور بودی قرار دیاکہ پانامہ لیکس پرمجوزہ کمیشن کا دائرہ کار تمام کرپٹ لوگوں تک پھیلا دینا اس کا اثر ختم کردے گا، جس کے جواب میں شفقت محمود نے پرویز رشید کو نواز شریف کا منشی قرار دے دیااور بات بہت بڑھ گئی۔ ایک عمومی تاثر یہی ہے کہ پرویز رشید اور شفقت محمود دونوں ہی فاختائیں سمجھی جاتی ہیں، عقاب نہیں مگر میں کم از کم پرویز رشید بارے اس سے اتفاق نہیں کرتا، آئین اور جمہوریت کے لئے جارح پرویز رشید سے بڑھ کر عقاب کون ہوگا۔ہم آج تک ان کوؤں کو عقاب قرار دیتے آئے ہیں جو کائیں کائیں کا ڈھیر شور مچاتے ہیں مگر جیسے ہی کوئی پٹاخہ پھوٹتا ہے اپنی چونچیں پروں میں چھپاتے کہیں گم ہوجاتے ہیں، ہاں، غول میں ہوں تو ان کا رویہ بہت مختلف ہوتا ہے ۔ نجم سیٹھی کے مطابق تلخی دلوں میں پرانی تھی ،جب پرویز رشید نے جواب میں شفقت محمود کو شہباز شریف کا منشی کہا تو ان کا اشارہ اس وقت بارے تھا جب وہ ایک بین الاقوامی سطح کے پروگرام میں شہباز شریف کے کنسلٹنٹ تھے، شفقت محمود بنیادی طور پر ایک بیوروکریٹ تھے اور اس کے بعد انہوں نے بے نظیر بھٹو کو بھی جوائن کیا، فاروق احمد خان لغاری کے ساتھ بھی گئے، مسلم لیگ نون جوائن کرنے کی بھی مبینہ کوشش کی ، پرویز مشرف کا بھی ساتھ دیا اورپھر عمران خان کے ایسے ساتھی بنے کہ انہوں نے شفقت محمود کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے تیس اکتوبر کامینار پاکستان پر تاریخ ساز جلسہ کروانے والے عمر چیمہ کو فارغ کر دیا۔میری شفقت محمود کے ساتھ ملاقاتیں کم ہیں کہ ان کا بات کہنے کا بیوروکریٹک انداز تکلیف دہ ہوتا ہے مگر پرویز رشید کے ساتھ بہت دیر تک تسلسل کے ساتھ رابطہ رہا،یہ رابطہ ان کی سیاسی ضرورت اور میری صحافتی مجبوری تھی، جیسے جیسے ان کی ضرورت اور میری مجبوری کم ہوتی گئی ، یہ رابطہ بھی کم ہوتا گیا، ہم کارکن صحافیوں کے نزدیک یہ کوئی غیر معمولی اور غیر روایتی بات نہیں ہے۔

میں سیاسی کارکنوں کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، ان سے گپ شپ کرنے اور نکتہ نظر کے تبادلے میں مجھے ہمیشہ رائے اور تجزیے کی اصابت میں مدد ملتی ہے، مگر سیاسی جماعتوں میں ان لوگوں سے ہمیشہ چڑ محسوس ہوتی ہے جو کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں یا اپنی محنت اورکمٹ منٹ کی بجائے دولت اور چرب زبانی کی بنیاد پر عہدے سنبھال لیتے ہیں، یہ اچھے لوگ نہیں ہوتے۔ میں ایک کارکن صحافی کے طور پر اب تک اپنی معلومات اور تاثر کی بنیاد پر گواہی دے سکتا ہوں کہ پرویز رشید ایک سچے اور کھرے سیاسی کارکن ہیں،وہ اپنی محنت اور کمٹ منٹ سے آج اس مقام پر ہیں اگرچہ نواز شریف کی کابینہ میں بھی بہت سارے ایسے ہیں جن کا میرٹ سیاسی جدوجہد نہیں ہے، وہ سکائی لیب سے ہر دور کی کابینہ میں اترتے رہے ہیں مگر پرویز رشید نیچے سے بہت مشکل سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر تک پہنچے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی دوسرے کی محبت میں پرویز رشید سے نفرت کرتے ہوں مگر آپ ان کی سیاسی جدوجہد کاانکار نہیں کر سکتے۔ اب تو عشرے گزر گئے۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب بڑے بڑے خاموش ہو گئے تھے، اپنے گھروں میں بیٹھ گئے تھے مگر آج سے پندرہ ، سولہ برس پہلے میجر سیف نامی ایک چھوٹے سے اہلکار نے سیاسی کارکنوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو مٹی کی ایک پہاڑی پر لے جا کرنیچے دھکیل دیا جاتا تھا جس سے وہ لہو لہان ہوجاتے تھے۔ ایک باپ کا جرم صرف سیاست تھا اور وہ لاہور کے ایک تھانے میں صرف اس وجہ سے لہو سے بھرے ہوئے کپڑوں میں اپنی فیملی کے سامنے قابل رحم حالت میں موجود تھا کہ وہ آئین اور جمہوریت کا نام لیتا تھا،لاہور کے تھانوں میں جاوید ہاشمی، سعد رفیق،زعیم قادری کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے، سیاست میں اختلاف ضرور کرنا چاہئے کہ یہی جمہوریت اور سیاست کا حسن ہے مگر سیاست دانوں کوحقیقی سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کی نفی نہیں کرنی چاہئے۔ مجھے آج اپنے معاشرے پر فخر محسوس ہوتا ہے جس میں ضیاء الحق کے بعد پرویز مشرف کے مارشل لاء میں بھی ماریں کھانے والے سیاسی کارکن موجود ہیں اگرچہ ان میں سے بہت سارے اپنی قیادتوں کے دلوں سے اتر چکے مگر وہ تاریخ کے سنہری صفحات سے کبھی نیچے نہیں اتر سکتے۔

مجھے پرویز رشید کی سیاست، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی بحالی کے لئے عظیم جدوجہد کے ساتھ ساتھ یہ گواہی بھی دینی ہے کہ میری آج تک کی معلومات کے مطابق پرویز رشید کرپٹ سیاستدان نہیں ہے۔ کبھی اس سیاست دان کی لاہور کی فردوس مارکیٹ میں پائپ بنانے کی فیکٹری ہوا کرتی تھی اور جب مشرف کا مارشل لاء لگا تو پی ٹی وی کے چیئرمین کی ذمہ داری سر پر تھی۔میں آج اس طاقت ور ترین وفاقی وزیر کو اپنی ذاتی کئی برس پرانی گاڑی میں پروٹوکول تو بڑی بات ہے،بار ہا بغیر کسی ڈرائیور کے عام شہری کی طرح سفر کرتے دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے تو چھوٹے چھوٹے سرمایہ دار اور جاگیردار اپنے ساتھ بڑی بڑی مونچھوں اور بندوقوں والوں کے ڈالے لے کر چلتے ہیں۔ پرویز رشید تو اس حکومت کا وزیر ہے جس نے امن و امان کی خاطر اہم فیصلے کئے ہیں، پرویز رشید تو وہ شخصیت ہے جس نے ایک مقبول سیاسی رہنما کو بھارت کو گالی دینے کی سیاست سے مقبولیت حاصل کرنے سے روکا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کے لئے سیکیورٹی انتہائی ضروری ہے چاہے اس کے مخالف اس سیکیورٹی کو پروٹوکول ہی کیوں نہ کہتے رہیں۔ کیا یہ بات پرویز رشید کی جینوئن شخصیت کی عکاسی نہیں کرتی کہ برس ہا برس سے ان کے پاس ایک ہی فون نمبر ہے حالانکہ یہاں میرے بہت سارے پیارے دوستوں کے پاس نیا نمبر آگیا جب وہ کسی عہدے پر پہنچے، میں نے شرم میں نیا نمبر مانگا نہیں اور انہوں نے دیا نہیں، اب ان سے ان کے پرائیویٹ سیکرٹریوں کے ذریعے ہی رابطہ ہوتا ہے جبکہ پرویز رشید کے ساتھ تو میں دوستی کا دعویٰ بھی نہیں کرتا، وہ ایک کارکن صحافی سے بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ ایک ضرورت کا تعلق ہے اور دوسرا لحاظ کا تعلق ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اکثر اوقات دوسرا تعلق زیادہ حاوی ہوجاتا ہے، ایک سیاسی کارکن ایک کارکن صحافی کا لحاظ کر لیتا ہے اور ایک کارکن صحافی، ایک سیاسی کارکن کا لحاظ رکھ لیتا ہے ورنہ آج کے دور میں یہ لحاظ والا تعلق تو عنقا ہوتا چلا جا رہا ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج کا کالم میرے اپنے ہی شعبے کے طاقت ور اور بااختیار وزیر کی قصیدہ خوانی ہے تو مجھے یہ عرض کر لینے دیجئے کہ مجھے وفاقی وزیر پرویز رشید سے کوئی ذاتی کام نہیں ہے، آج سے سترہ ، اٹھارہ برس پہلے مجھے الیکٹرانک میڈیا جوائن کرنے کا شوق پیدا ہوا، میں نے درخواست کی کہ اگر میں میرٹ پر پورا اترتا ہوں تو مجھے پی ٹی وی میں رپورٹنگ کی ذمہ داری دے دی جائے پھر میں طویل عرصہ انٹرویو دیتا اور چکر لگاتا رہ گیا تھا۔ کئی برس بعد جب میاں صاحبان جلاوطنی ختم کرکے واپس لوٹے تو جاتی امراء کی رہائش گاہ کے صحن میں لگی کرسیوں پر ہم سب آصف زرداری کا انتظار کر رہے تھے تو پرویز رشید نے ہنستے ہوئے اپنے اس پرانے دور اور میری اس پرانی خواہش کو یادکیا تھا ،میں بھی اس کے جواب میں ہنس دیا تھا،ہاں،جب مجھے ایک آدھ مرتبہ بے روز گاری کا خطرہ محسوس ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر مجھے ان کی طرف سے ا س وقت تک کالز اورپیغامات کا جواب نہیں ملا جب میں نے انہیں پیغام بھیج کر یہ نہیں بتادیا کہ میں نے ایک دوسری آرگنائزیشن جوائن کر لی ہے، ان کے مبارک باداور نیک خواہشات پر مبنی جواب سے مجھے خوشی ہوئی تھی اور نجانے کیوں پی ٹی وی جوائن کرنے والے میرے دوست مجھے فون کر کے بتاتے رہے کہ ان کی پوسٹنگ میں وزیر اطلاعات کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس اعتراف کے سوا میں نے کبھی ان سے ذاتی کام نہیں کہا ، میں کبھی کسی غیر ملکی سرکاری دورے کے نام پر مفت سیر کرنے بھی نہیں گیا،اللہ جانتاہے کہ اب توایسی کوئی خواہش ، کوئی ضرورت بھی نہیں رہی لہٰذا گواہی معتبرجانئے کہ پرویز رشید ایک حقیقی اور نظریاتی سیاسی کارکن ہیں جن کے نظرئیے سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر جمہوری پاکستان میں ایسوں کا دم غنیمت ہے۔

مزید :

کالم -