وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم پر اعتماد کی قرار دادمنظور ، اپوزیشن کے الزامات مسترد

وفاقی کابینہ کا اجلاس ، وزیراعظم پر اعتماد کی قرار دادمنظور ، اپوزیشن کے ...

  

 اسلام آباد(اے این این،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کا بینہ کے طویل تعطل کے بعد منعقدہ اجلاس میں پانامہ لیکس پر اپوزیشن کا شور شرابہ مسترد،وزیر اعظم پر مکمل اعتماد کی قرار داد منظور ، جوڈیشل کمیشن کے قیام اور اس کے ٹی اور آرز کی بھی توثیق ،نواز شریف کی جانب سے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے اعلان کو سراہا گیا ،اجلاس میں 3سالہ بجٹ اسٹریٹجی پیپرز کی بھی منظوری دے دی گئی ،تعلیم اور صحت کو بنیادی ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ جبکہ دفاعی بجٹ میں 10فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وفاقی کابینہ کا اجلاس طویل مدت کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار میں ملک جاری ترقیاتی منصوبوں ، توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے کئے گئے اقدامات اور آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ کی تیاری سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس آمدنی کا ہدف 36 سو ارب رکھنے اوربجٹ میں 100ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ہے۔ یہ ٹیکس مختلف ٹیکس چھوٹ ختم ہونے پر عائد ہوں گے جب کہ مہنگائی کی شرح کو پانچ فیصد تک رکھنے اور مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد تک لایا جائے گا، اسی طرح معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد تک رکھنے کی تجویز بھی ہے۔ دفاعی بجٹ میں 8 سے دس فیصد اضافہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے اور دفاعی بجٹ کا تخمینہ 890ارب روپے کے لگ بھگ ہو گا ۔ ترقیاتی بجٹ 700ارب روپے اور وفاقی وزارتوں کے اخراجات میں بھی چھ فیصد تک اضافہ کرنے کی تجویز بھی ہے ۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم پراظہار اعتماد کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی اور کابینہ کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کی جانب سے چیف جسٹس کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔وفاقی کابینہ کا اجلاس 7ماہ کے وقفے کے بعداسلام آباد میں ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئندہ 3برس کے لیے بجٹ سٹریٹجی پیپرکی منظوری دی ۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ترقیاتی بجٹ ہوگا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چین نے سکھر ملتان اور حویلیاں تھاکوٹ موٹروے کی تعمیر کیلئے ساڑھے 4ارب ڈالر کی منظوری دی ہے ۔ کابینہ نے پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے قیام اور اس کے ضوابط کار کی بھی توثیق کی۔اجلاس میں وفاقی کابینہ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ضابطہ کار کی منظوری دے دی اور واضح کیا ہے کہ یہ ضابطہ کار حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں پاناما لیکس کے لیے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں تمام پہلوں کا احاطہ کیا گیا ہے اس لیے اس ضابطہ کار میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ مخالفین ترقیاتی منصوبوں سے خائف اور حکومت کی کامیابیوں سے نالاں ہیں ۔وہ صرف معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ہمارے منصوبے مکمل ہو گئے تو انہیں 2018میں بھی ناکامی ہو گی اس لئے مٹھی بھر سیاسی مخالفین ملک کی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے کوشاں ہے، ہم ترقیاتی منصوبوں شفافیت کا نیا معیار قائم کررہے ہیں، 1999کے بعد کی حکومتیں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہیں، اب تمام ادارے معیشت میں بہتری کا اعتراف کررہے ہیں ۔ توانائی منصوبوں کیلئے 34ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور یہ قرض نہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنے دور حکومت میں ہی گیس کی قلت پر بھی قابو پا لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجٹ خسارہ کم ، افراط زرمیں بھی کمی لائی جائے گی ۔ اب تمام ادارے معیشت میں بہتری کا اعتراف کررہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کا معیار متعارف کرایا ہے ۔انھوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ وہ اپنی وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی خدمت کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ انہوں نے تھر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر خوشی کا اظہار کیا ۔اجلاس میں پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم نواز شریف پر مکمل اعتماد کی قرار داد کی بھی منظوری دی ۔

اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی کابینہ نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے حوالے سے انٹرنیشنل کنسورشیم فار انویسٹیگیٹو جرنلسٹ کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کی سخت مذمت کی ہے جنہیں اب خود کنسورشیم نے ایک صحافتی غلطی قرار دیا ہے۔ ایک بیان کے مطابق آئی سی آئی جے کی غلط بیانی کے اعتراف پر وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز اپنے اجلاس میں شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کنسورشیم اس غلطی کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

مزید :

صفحہ اول -