نوزا شریف کا نام غلطی سے شائع ہوا ، آئی سی آئی جے

نوزا شریف کا نام غلطی سے شائع ہوا ، آئی سی آئی جے

  

 اسلام آباد(این این آئی)پاناما پیپرز میں آف شور اکاؤنٹس کا بھانڈا پھوڑنے والے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ( آئی سی آئی جے) نے وزیراعظم نواز شریف کا نام پاناما پیپرز میں غلطی سے دینے پر معذرت کرلی۔آئی سی آئی جے نے وزیراعظم نواز شریف کا نام غلطی سے پاناما پیپرز میں شائع کئے جانے پر معذرت کرتے ہوئے اپنی تمام خبروں اور ویب سائٹ سے وزیراعظم نوازشریف کا نام نکال دیا اور اپنی وضاحت میں کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کا نام پاناما پیپرز میں آنا ٹائپنگ غلطی تھی جس پر معذرت خواہ ہیں، پاناما پیپرز میں آف شور اکاؤنٹس سے متعلق نواز شریف کا نہیں بلکہ حسن اور حسین نواز کا نام شامل ہے تاہم ٹائپنگ غلطی سے آف شور اکاؤنٹس کی فہرست میں وزیراعظم نواز شریف کا نام لکھا گیا تھا۔آئی سی آئی جے نے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کے شکایتی خط کا جائزہ لینے کے بعد اپنی ویب سائٹ اور خبروں سے وزیراعظم نواز شریف کا نام ہٹایا۔ دانیال عزیز نے خط میں آئی سی آئی جے کی رپورٹ میں کی گئی غلطیوں اور وزیراعظم نواز شریف کا نام شامل کئے جانے کی نشاندہی کی۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے ) نے 9 مئی کو ڈیٹا بیس لانچ کرنے کااعلان کردیا جس میں پاناما پیپرز میں شامل 2 لاکھ آف شور کمپنیوں کا ڈیٹا رکھا جائے گا۔ یہ ڈیٹا بیس اب تک کا آف شور کمپنیوں اور ان کے پیچھے چھپے لوگوں کی معلومات کے حوالے سے سب سے بڑا دھماکہ ہوگا۔ پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے مالک تقریباً 400 سے زائد پاکستانیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے نام 9 مئی کو دئیے جائیں گے۔ اسی روز انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس کی جانب سے قابل تلاش ڈیٹا بیس جاری کیا جائے گا جس میں دو لاکھ سے زائد کمپنیوں کے بارے میں معلومات ہوں گی۔ ایک مخبر نے یہ ڈیٹا جرمن اخبار کو لیک کیا اور آئی سی آئی جے کے 60 ممالک میں اپنے ارکان کے نیب ورک کے ذریعے اس نے 100 سے زائد میڈیا پارٹنرز کے ساتھ تعاون کیا۔ اس نمائندے نے پاکستانیوں کے بارے میں ریکارڈ معلوم کرنے کے لئے بڑی چھان بین کی تاہم عسکری لمیٹڈ اور برادر کارپوریشن جیسی کمپنیوں کی ملکیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔ گوکہ اس معاملے میں سیاست دانوں نے زیادہ توجہ حاصل کی تاہم اس فہرست میں اکثریت کاروباری برادری کی ہے جو ورجن آئی لینڈ، سیشلس، پاناما اور دیگر ’’ٹیکس ہیونز‘‘ کو اپنے بیرونی ملک منافع کی منتقلی، جائیدادوں کی خریداری، سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، سنگاپور، آئرلینڈ اور دیگر جگہوں پر بینک اکاؤنٹس کھلونے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ پاکستان میں آف شور کمپنیوں کے مالکان کی اکثریت کا تعلق کراچی سے اور لاہور دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ان میں سے بھی دونوں شہروں میں اکثیرت ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی رہائشی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق مذکورہ ڈیٹا پاناما کی قانونی فرم موسیک فونسیکا کے ذریعے سامنے آیا جس سے 200 سے زائد ممالک اور خطوں کے لوگوں کا تعلق ہے۔ ہانگ کانگ سے امریکا میں نیواڈا تک 21 ٹیکس ہیونز میں کمپنیوں، ٹرسٹ فاؤنڈیشنز اور فنڈز کے بارے میں معلومات ہیں۔ آئی سی آئی جے کے اعلان کے مطابق یوزرس 9 مئی سے نیٹ ورکس پر ان کے بارے میں ڈیٹا تلاش کرسکیں گے۔ تاہم ذاتی ڈیٹا مکمل طور پر جاری نہیں ہوگا۔ عوامی مفاد میں صرف منتخب معلومات اور اطلاعات جاری ہوں گی۔

مزید :

صفحہ اول -