موسم بہار کی جولانیاں

موسم بہار کی جولانیاں

  

خزاں کے بعد موسم بہار کی آمد بس اچانک رونما ہوتی ہے۔ بارش کا ایک چھینٹا پڑ جائے تو اگلے ہی روز شہتوت کے درختوں کی خالی شاخیں کونپلوں سے بھر جاتی ہیں۔ فضاؤں میں تازگی کا ایک احساس جاگ اُٹھتا ہے۔ سبزہ اپنے رنگ کے مختلف درجات میں نمایاں ہوتا ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں فرحت کی خنکی بھر دیتا ہے۔ پھولوں کے پودوں پر کلیاں چٹکتی ہیں اور گوناگوں رنگوں کے پھول فطرت کی جمالیاتی حس کو اُجاگر کرتے ہیں۔ گھروں میں، سڑکوں پر، باغیچوں، باغات اور پارکوں میں لہلہاتے پھول بہار کی بھرپور خوبصورتی کا اعلان کرتے ہیں۔ پارکوں میں حکومتی ا ور غیر سرکاری سطح پر پھولوں کی نمائشوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ مالی اپنے ہنر و فن کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں نمائش دیکھنے آتے ہیں۔ بچے اور عورتیں پھولوں کے قطعوں میں گھومتے ہوئے پھولوں ہی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ لڑکیاں بالیاں بہار کی مناسبت سے لباس پہنتی ہیں اور پورے ماحول کو اس خوبصورتی اور تازگی سے آشنا کرتی ہیں جو بدلتی رت کا تقاضا ہوتی ہیں۔

بہار کا موسم سردی اور خزاں کی خشک گھٹن کو دور کرتا ہے اور بھرپور گرمیوں کے آنے سے پہلے پہلے زندگی کو اس رعنائی سے روشناس کراتا ہے جو زندگی میں کچھ کر گزرنے کی امنگ بھر دیتی ہے۔ اس موسم میں شادیوں کی تقریبات کے ساتھ ساتھ شوخ اور جاذب نظر پہناووں کا زور ہوتا ہے۔ طبیعت میں ہلکا پن ہونے کے سبب بھوک لگتی ہے۔ نت نئے پکوان تیار ہوتے اور تناول کئے جاتے ہیں۔ اکٹھے مل بیٹھنے سے آسودگی ملتی ہے۔ میل ملاپ اور ملاقاتوں کے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں راتیں پر سکون اور دن تناؤ سے بے نیاز گزرتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کو جی کرتا ہے اور مشکل گھڑیاں ہنستے کھیلتے گزر جاتی ہیں۔

بہار کا موسم صرف ماحول میں تبدیلی نہیں بلکہ روح میں راحت لاتا ہے۔ اگرچہ وہی روحیں راحت سے سرشار ہوتی ہیں جو اس موسم کی پہچان رکھتی ا ور اس آسمانی عطا کی قدر کرتی ہیں۔

بیساکھی کا میلہ ان ہی دنوں میں منایا جاتا ہے سرسوں کی پیلاہٹ، سبزے کی ڈھلک کے ساتھ، آسمان کی نیلاہٹ میں ایک عجیب سا کیفیاتی تاثر پیدا کرتی ہے۔ طبعیتیں بشاش ہوتی ہیں اور چہروں پر زندگی کی سرخی چھا جاتی ہے۔ نت نئے اور رنگ برنگے پھولوں سے سارا ماحول مہک اُٹھتا ہے اور شہروں میں پھیلتے سیمنٹ اور کنکریٹ کے جنگل میں زندگی کی رمق دوڑ جاتی ہے۔

موسم بہار زندگی کی جولانیاں لئے ایک انمول رُت ہے۔ اس موسم میں صرف فطرت ہی فیشن نہیں کرتی، انسانوں کے دل بھی فیشن کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ موسم مختلف برانڈ کے تحت پیراہن تیار کرنے والوں کو نئی پیشکشوں کی تیاری پر اُکساتا ہے۔ بازار میں اتنی اقسام در آتی ہیں کہ خواتین کے لئے انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پوشاک تیار کرنے والے بہار کے پھولوں کے سبھی رنگ سوتی اور لان کے کپڑوں پر لے آتے ہیں یوں انہیں زیب تن کرنے والیاں موسم کے تقاضے پر پورا اترتی ہیں اور ہر اس جگہ پر بہار کا سندیسہ لے کر جاتی ہیں جہاں پھول نہیں پہنچ سکتے۔ عوامی اجتماعات میں مختلف النوع رنگوں کا اکٹھ دیکھ کر سبھی نہال ہوتے ہیں۔

تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ موسم بہار کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے

یونانی دیو مالائی کہانیوں کا ایک کردار، ’پرسی فون‘ بہار ہی کے موسم میں زیر زمین سے سطح زمین پر آتا ہے۔ حسین و جمیل ’پرسی فون‘ زیر زمین دنیا کے حکمران ہیڈیز کی ملکیت میں ہے جو سال کے چھ ماہ زیر زمین اور چھ ماہ زمین پر گزارتی ہے اور جس کی آمد سے خوشوں میں دانے بھر جاتے ہیں، پودے اور اشجار سرسبز ہو جاتے ہیں اور پھولوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں بہار کی یہ دیوی اپنے جلو میں صحت بخش تازگی اور خوشیاں لاتی ہے۔

موسم بہار بلا شبہ رب العزت کا بیش بہا عطیہ ہے اس کی آمد انسانی اجسام کو لطافت سے نوازتی اور گرمیوں کے سخت موسم کے لئے تیار کرتی ہے۔ سردیوں میں ثقیل اور مرغن غذاؤں کے استعمال کے بعد موسم بہار وہ وقفہ ہے جس میں لوگ اپنی خوراک کو اعتدال میں لاتے ہیں اور ان عوارض سے بچتے ہیں جو گرمیوں کے سخت موسم میں ان کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

خواتین کے لئے بہار کا موسم خاصی اہمیت رکھتا ہے وہ اس موسم سے حَظ اُٹھاتی ہیں اور اپنی ذات کی بہتری کی جانب توجہ دیتی ہیں۔ یقیناً یہ موسم طبیعتوں کو سکون بخش اطمینان سے نوازتا اور دلوں کو راحتیں مہیا کرتا ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -