آبادی کی تیزی سے منتقلی ، ایشیاء پیسفک کو زوال کا خطرہ ہے ، یو این ڈی پی

آبادی کی تیزی سے منتقلی ، ایشیاء پیسفک کو زوال کا خطرہ ہے ، یو این ڈی پی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) طویل المدتی منصوبہ بندی اب ایشیا اور بحرالکاہل (پیسیفک) کے علاقوں میں بے مثال ترقی لانے اور غربت سے نمٹنے سمیت تنازعات اور ہجرت کی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے اور یہ تبدیلیاں اس شرح ہو رہی ہیں جس کا مشاہدہ دنیا نے کبھی نہیں کیا ہے۔ وہ تبدیلیاں جیسے کہ کام کرنے والی آبادی کی عمر اور شرح پیدائش میں کمی جیسی دھماکے دار تبدیلی جسے یورپ میں آنے میں سو سال درکار ہیں وہ یہاں محض 30 سال میں رونما ہو رہی ہیں۔ اگر یہاں کے ممالک آبادی کی اس تبدیلی کے لئے منصوبہ بندی شروع نہیں کرتے تو وہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے ایک انتہائی منفرد موقع کو گنوا دیں گے۔ان باتوں کا اظہار یونائیٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام (UNDP) یعنی اقوام متحدہ کے پروگرام برائے ترقی نے ریجنل ہیومن ڈیولپمنٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا ہے۔جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرزِ عمل سے نوجوانوں میں مایوسی اور عدم استحکام کی وجہ سے تنازعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کاعنوان ’’مستقبل کی تشکیل: آبادی میں تبدیلی کس طرح انسانی ترقی کو تقویت دے گی‘‘ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا پیسیفک کے بیشتر ممالک اب کام کرنے والی آبادی کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں جب کہ چند ممالک ایسے ہیں جو تاریخی ترقی کے حصول کے لئے بالکل تیار ہیں۔ ان ممالک میں 68 فیصد لوگ کام کرنے کی عمر کے ہیں اور صرف 32 فیصد لوگ ایسے ہیں جو کام کرنے والے ان لوگوں پر بوجھ ہیں۔رپورٹ کے ایک اہم مصنف Thangavel Palanivel (تھانگاویل پالانیویل) رپورٹ میں کہتے ہیں ’’ایسے ممالک جن کی آبادی میں کام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہو وہ ان کی اقتصادیات میں صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور مستقبل کی خوشحالی جیسے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی صلاحیت ہوتی ہے۔رپورٹ فوری ردّ عمل کی متقاضی ہے جس میں پائیدار ترقی کے 9 عوامل کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ ان میں انفرادی طور پر ممالک کے لئے ان کے پروفائل کے مطابق ٹھوس پالیسیاں ہیں ۔ایشیا پیسیفک ڈیولپمنٹ رپورٹ برائے مستقبل کی تشکیل: آبادی کی شماریات کی تبدیلیاں کس طرح انسانی ترقی کو تبدیل کردیتی ہیں ( 26 اپریل 2016 ء کو ڈھاکہ کے وقت کے مطابق صبح 9:30 بجے)پین پیسیفک ہوٹل ، ڈھاکہ، ایک سرکاری پریس ریلیز کے تحت کام کرنے والی بڑی آبادی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ ، یو این ڈی پی خطے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی آبادی کو اچھے روزگار کے بہتر طریقے سے فراہم ہونے اور خطے میں سرمایہ کاری کرنے کے مختلف طریقوں کے لئے تجاویز فراہم کرتا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی آبادی رکھنے والے ممالک تعلیم اور صحت کے شعبوں کے علاوہ اداروں کو مضبوط کرنے میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے تاکہ اسکول سے لے کر پیشہ ورانہ زندگی تک آنے کے تمام عمل میں نوجوانوں کی عوامی زندگی میں شرکت کی حوصلہ افزائی ہو۔بری عمر کے افراد زیادہ تعداد میں رکھنے والے ممالک کو منصفانہ اور پائیدار پینشن کے نظام کو وضع کرنے کی ضرورت ہے، جو بڑی عمر کے شریوں کی قدر کرے اور ان کی تعریف کے فروغ کے لئے ہو تاکہ ان میں سے وہ لوگ جو کام کرنا چاہیں مارکیٹ میں اپنی مہارت اور تجربہ لا سکیں۔اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور یو این ڈی پی کے ڈائرکٹر برائے ایشیا اور پیسیفک (Haoliang Xu) ہاؤلیانگ ژہو نے کہا ’’پیداوارمیں اضافے کی ترقی میں سرمایہ کرنے اور مستقبل کو محفوظ کرنے کی کھڑکی 2050ء تک کھلی ہے۔اگر ایشیا پیسیفک کے ممالک روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا نہیں کرتے تو 2050 ء تک اقتصادیات کی ترقی سست ہوجائے گی اور موجودہ کام کرنے والی آبادی کی عمر ریٹائرمنٹ کی حد تک پہنچنا شروع ہو جائے گی۔کرّہ ارض پر 58 فیصد لوگ کام کرنے والی عمر میں ہیں ، اور جو کچھ ایشیا پیسیفک ممالک میں ہوگا وہ اس خطے سے باہر دور تک کے ممالک کو بھی متاثر کرے گا۔ ہاؤلیانگ ژہو نے مزید کہا ’’ترقی ، روزگار اور ہجرت مغرب میں اس بات سے مشروط ہے کہ مشرق میں کیا ہوتا ہے۔ یہاں سورج طلوع ہوتا ہے مگر اس کے اثرات جلد ہی ساری دنیا میں محسوس کئے جاتے ہیں۔‘‘ہر ملک کے لئے کوئی ایک ہی حل نہیں ہے ، لیکن خطے کے تنوع کی وجہ سے جنوب جنوبی ایشیا میں تعاون کے دوسرے حل بھی فراہم ہوتے ہیں ۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مالی منصوبہ بندی پر تجربات بشمول ٹیکس کی آمدنی کے پائیدار استعمال کا اشتراک کریں۔نوجوان عمر کی آبادی والے ممالک کا بڑی عمر کی آبادی والے ممالک سے تعاون بھی خطے میں محفوظ نقلِ مکانی کی حوصلہ افزائی او ر یورپ میں تارکین وطن کی شدت کو کم کرسکتے ہیں۔ہاؤ لیانگ ژہو نے کہا ’’پچاس سالہ مہارت اور ایشیا پیسیفک کے 24 ممالک میں دفاتر کی وجہ سے یو این ڈی پی مثالی طور پر پائیدار ترقی کے 9 عوامل کے نفاذ میں مدد کرسکتا ہے۔ ہم نوجوانوں ، عمر، نقل مکانی، سماجی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ(قدرتی آفات کے خطرات سے بچاؤ)، گورننس، شہروں کے پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مقامی اور بین الاقوامی پبلک اور پرائیویٹ فنڈنگ اور مہارت کے امتزاج کی شراکتوں میں سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -