چارسدہ ،بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ اور امن وامان کی ابتر صورتحال

چارسدہ ،بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ اور امن وامان کی ابتر صورتحال

  

چارسدہ (بیور و رپورٹ)چارسدہ کے تاجر بجلی لوڈ شیڈنگ ،امن و امان کی ابتر صورتحال ،نکاسی آب اور ٹریفک پولیس کے من مانیوں کے خلاف پھٹ پڑے۔ دو سال پہلے غیر قانونی تجاوزات ہٹاکر فٹ پاتھ بنانے کی نوید سنائی گئی مگر فٹ پاتھ کی بجائے ٹریفک پولیس نے دکانوں کے سامنے کھون لگا کرتاجروں کے معاشی قتل کے منصوبے پر عمل در آمد شروع کیا ۔ ذمہ دار ادارے تاجروں کو چوری ،رہزنی اور ڈکیتی پر مجبور کر رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تاجروں کو در پیش مسائل اور مشکلات کے حوالے سے چارسدہ یونین آف جرنلٹس کے زیر اہتمام ایک سروے کا انعقاد کیا گیا ۔ سرو ے میں اظہار خیال کرتے ہو ئے متحدہ شاپ کیپرز فیڈریشن کے مرکزی صدرحکیم اللہ فوجی ، ملک ظفر خان ،صالح شاہ باچہ ،آصف خان ،فہیم جان ،حضرت علی ،رشید خان ،امجد ،شمس الرحمان ،جان پر ویز ،میاں مفرق شاہ ،ذوالفقار علی بھٹو ،داؤ د خان اوردیگر نے کہا کہ تاجر پاکستان کے معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر تاجروں کو حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے کوئی سہولت میسر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ چارسدہ میں دہشت گردی ،امن و امان کی ابتر اور غیر یقینی صورتحال کے باجود چارسدہ کے تاجر حکومت کے ہر اچھے اقدام کی حمایت کر تے ہیں اور ہمیشہ مشکل کی گھڑی میں ریاستی اداروں کا کھل کر ساتھ دیا مگر آج وہی ریاستی ادارے تاجروں سے دشمنی پر اتر آئے ہیں اور تاجروں کو ریلیف دینے کی بجائے ان پر عرصہ حیات تنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے چارسدہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف اپریشن کیا گیا اور تاجروں سے وعدہ کیا گیا کہ جلد ازجلد فٹ پاتھ تعمیر کئے جائینگے مگر دو سال کا عرصہ گزر نے کے بعد ٹریفک پولیس نے فٹ پاتھ کی جگہ دکانوں کے سامنے کھون لگا کر تاجروں کے معاشی قتل کا پورا بندو بست کیا ۔ ٹریفک پولیس کے ہتک آمیز رویے ،آئے روزناجائز جر مانوں اور گالی گلوچ کی وجہ سے بار بر دار گاڑیاں چارسدہ نہیں آسکتے ۔ صوبائی حکومت اور آئی جی ناصر درانی کے ٹریفک اصلاحات قصہ پارینہ بن گیاہے اور ٹریفک حکام پہلے سلام اور پھر کلام کی بجائے پہلے گالی اور پھر کلام کے راستے پر چل پڑے ۔ٹریفک پولیس کو احلاقیات کا سبق دینے کی اشد ضرورت ہے ۔تاجروں کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے تاجروں کا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے ۔ تاجر کمرشل ریٹوں پر بجلی خریدتے ہیں مگر اس کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ تحصیل بازار میں نکاس آب مسئلہ کشمیر بن چکا ہے اور معمولی بارش میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر تے ہیں۔ مر دان روڈ پر تجاوزات ہٹانے کے نام پر دکانوں کے سامنے پل گرائے گئے اور تاجروں سے وعدہ کیا گیا کہ نکاس آب کے منصوبے پر کام شروع کیا جارہا ہے مگر کئی مہینے گزرنے کے باوجود اس پر کام شروع نہ کیا جاسکا اور اب فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ کیا جا رہا ہے ۔ تاجروں نے کہاکہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے تاجر محفوظ نہیں اور سر شام تاجروں کو دکانیں بند کرنا پڑتا ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -