جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ملکی برآمدات کو فروغ مل رہا ہے :انیسہ زیب

جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ملکی برآمدات کو فروغ مل رہا ہے :انیسہ زیب

  

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کی وزیر محنت اور معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی نے کہاہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی عمومی ترجیحاتی سکیم، جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس لئے ہمیں اس سہولت سے بھر پور فائدہ اٹھاکر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے عالمی منڈیوں میں اپنی برآمدات کیلئے بہتر مقام پیدا کرنا چاہئے اور یورپی یونین کی جانب سے دیئے گئے جی ایس پی کی حیثیت کوبرقرار رکھنے کے لئے مطلوبہ شرائط پر پورا اترنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں یورپی یونین کی عمومی ترجیحاتی سکیم جی ایس پی پلس’’ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات اور ترجیحات ‘‘کے موضوع پر منعقدہ فورم سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام عالمی سماجی ادارے ڈیمو کریسی رپورٹنگ انٹر نیشنل نے کیا تھا۔ فورم میں خیبر پختونخوا وومن کمیشن کی چیئر پرسن نیلم طورو،سماجی تنظیموں کی سربراہ رخشندہ ناز،مریم بی بی،ڈی آر آئی کے نمائندوں حسن نصیر اور محمد رفیق و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ اس موقع پر سماجی تنظیموں،وکلاء، لیبرڈیپارٹمنٹ کے حکام،ٹریڈ یونین لیبر تنظیموں و بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یورپی یونین کی عمومی ترجیحاتی سکیم کی سہولت ملنے سے ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور اس سے ہماری برآمدی اشیاء کی بیرون ملک طلب میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ فی الحال یہ ایک ارتقائی عمل ہے لیکن ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں درکار انڈیکٹرڑبہتر ہوں۔صوبائی وزیر نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہوئی ہیں اسلئے صوبائی حکومت گڈگورننس اوراداروں کی بہتری کیلئے تیزی سے کام کر رہی ہے اور متعدد شعبوں میں قانون سازی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں محکمہ محنت کے کئی قوانین کو بہتر کیا جا رہا ہے جبکہ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ،انڈسٹریز اینڈفیکٹریز ایکٹ،میٹرنٹی ایکٹ،ورکرز کمپنسیشن ایکٹ سمیت متعدد قوانین بنائے گئے ہیں جو جی ایس پی کی حیثیت کوبرقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے برائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ اوررائٹ ٹوسروسز ایکٹ بنائے گئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کیلئے صوبے میں مکمل ڈائریکٹوریٹ بھی موجودہے اور اسکے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کیلئے وومن کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہاکہ ہمارا صوبہ چیلنجز کے خطے میں واقع ہے اسلئے قدرتی آفات اور سیلاب جیسے مسائل سے متاثر رہا ہے تاہم ہمیں مسلسل کوشش کرنی اور یہاں پر علم و ہنر اورشعورکوفروغ دینا ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کیساتھ دیر پاترقیاتی منصوبوں پربھی کام کررہی ہے اور صرف محکمہ محنت کے تحت تقرریباً14قوانین بنائے گئے ہیں ۔ خواتین لیبر آفیسر ز کی تقرری کی جا رہی ہے اورمحنت کشوں کے لئے رہائشی سہولیات اور ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ تقریباً340ملین روپے کے تعلیمی وظائف لیبر ورکرزکے بچوں کودئیے گئے ہیں۔ اسی طرح میرج اور ڈیتھ گرانٹ کوبڑھایا جارہا ہے اور سالانہ 2لاکھ 50ہزارمریضوں کا محکمہ محنت کے شفاخانوں میں چیک اپ کرکے انکو معیاری ادویات دی جاتی ہیں اور محنت کش طبقے کو مزید سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -