ضیاء الدین یونیورسٹی کے تیرہویں کانووکیشن کی تقریب

ضیاء الدین یونیورسٹی کے تیرہویں کانووکیشن کی تقریب

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ضیاء الدین یونیورسٹی کے تیرہویں کانووکیشن کی پروقار تقریب ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہوئی جس میں 307 طالب علموں کو اسناد تفویض کی گئیں۔ اسناد حاصل کرنے والوں میں ایم فل، ایم بی بی ایس، فارم ڈی، ڈینٹسٹری، بائیو میڈیکل انجینئرنگ، میڈیکل ٹیکنالوجی، اسپیچ لینگویج، فزیکل تھراپی، کلینکل لیب سائنسز اور مختلف شعبہ جات میں ڈپلومہ کرنے والے طلبہ شامل ہیں۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو طلائی تمغوں سے بھی نوازا گیا جن میں ڈینٹل سرجری کے سلیمان، بایو میڈیکل کی عائشہ اختر، میڈیکل ٹیکنالوجی کی ردا معین، اسپیچ لینگویج تھراپی کی حفصہ منیر، جینیرک کی نورین شوکت، فزیکل تھراپی کی زلیخہ سلیم، ایم بی بی ایس کی ماہ نور عمران اور ڈاکٹر آف فارمیسی کی مینہ معراج شامل ہیں۔ ضیاء الدین یونیورسٹی کے تیرہویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے طلبہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی اوربین الا قوامی معیار کے گریجویٹس تیار کرنے پر ضیاء الدین یونیورسٹی اور اس کی فیکلٹی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ اس موقع پر نئے گریجویٹس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ آپ کا تعلق بیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کی روایت سے ہے اور آپ کو چاہیے کہ آپ ان روایات کو فروغ دیں جو ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے اپنی زندگی میں کی تھیں۔ انہوں نے پیشہ وارانہ زندگی میں اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ مہارت اور علم کی جھلک طالب علموں کی پیشہ وارانہ زندگی ہمیشہ میں نظر آنی چاہیے۔ اپنے کام میں نہ صرف فخر ہونا چاہیے بلکہ خود احتسابی بھی کرنی چاہیے اور اپنے علم میں ہمیشہ بہتری لانے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ سچ اور ضمیر کے مطابق اپنی سوچ کو آگے بڑھائیں اور اپنے کام کو محنت سے انجام دیں۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ ضیاء الدین یونیورسٹی معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے اور گذشہ تین دہائیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبے میں ترقی کے منازل طے کررہی ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ ضیاء الدین یونیورسٹی ہمیشہ معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوئے ملک اور سندھ کی ترقی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے۔ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے بقائی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈاکٹر سید اظہر احمد نے کہا کہ آج کا دن کامیاب ہوئے والے طالب علموں کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے انتہائی سخت محنت اور لگن کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ڈگری اور ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ کا سفر ایک جذبے سے شروع ہوا اور مستقبل میں آپ کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں آپ کو کامیابی یا ناکامی کو ایک مثبت انداز کے ساتھ نبھانا ہوگا۔ضیاء الدین یونیورسٹی کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کہنا تھا کہ ضیاء الدین یونیورسٹی اور ہسپتال ڈاکٹر اعجاز فاظمہ اور ڈاکٹر عاصم حسین کی سربراہی میں طب کے شعبے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ضیاء الدین یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عاصم حسین کا پیغام ایسوسی ایٹ ڈین، فیکلٹی افیئرز ڈاکٹر ندا حسین نے پڑھا۔ اپنے پیغام میں ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ کسی بھی ملک کے آئین کے بنیادی اصولوں میں بلا امتیاز انصاف، سوچ کی آزادی، قانون کے مطابق آزادی اظہار اور ہر انسان کی عزت وقار شامل ہوتے ہیں۔ اگر ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جس میں اخلاقیات کی کمی ہوتی ہے جیسا کہ آج کل ہے۔ انہوں نے اسناد حاصل کرنے والے طالب علموں کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اہم کردار ادا کیا حالانکہ یہ کام مملکت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے طالب علموں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی جانفشانی اور تعلیمی قابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ ضیاء الدین گروپ گذشتہ پچاس برس سے ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کے بنائے زریں اصولوں کے مطابق اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ ضیاء الدین یونیورسٹی کے سفیر ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آپ ضیاء الدین یونیورسٹی کا نام اپنی صلاحیتوں سے روشن کریں گے اور خندہ پیشانی سے اینٹ سے اینٹ ملا کر ملک کی ترقی کے لیے اپنا تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اس لیے کہ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘۔قبل ازیں استقبالیہ کلمات میں ضیاء الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے طلبا اور والدین کو مبارکباد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کا تعلق ملک کی بہترین جامعہ سے ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلا حیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔انہوں نے طالب علموں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک انتہائی معتبر پیشے سے وابستہ ہوچکے ہیں اس لیے اپنی پیشہ وارانہ اخلاقیات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں اور انسانیت کی خدمت کے لیے نمایاں کردار اد کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیشہ سچ کو اہمیت دیں اور بلا امتیاز مذہب، قومیت، سیاست اور سماجی رتبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیں۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -