یونان نے اولمپکس مشعل برازیلین حکام کو سونپ دی

یونان نے اولمپکس مشعل برازیلین حکام کو سونپ دی
یونان نے اولمپکس مشعل برازیلین حکام کو سونپ دی

  

ایتھنز (ویب ڈیسک) یونان نے برازیلین حکام کو اولمپک مشعل سونپ دی، عظیم کھیلوں کے آغاز کیلئے 100 روزہ کاﺅنٹ ڈاﺅن شرو ع ہوچکا ، تقریب میں یونان کے صدر پروکوپیس پاولو پولوس اور ریو 2016 آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین کارلوس نوزمان بھی موجود ہے، اس سے قبل 21 اپریل کو 2 ہزار 600 سال پرانے اور قدیم اولمپیا کے زمانے سے قائم عبادت گاہ میں اولمپک مشعل جلائی گئی تھی، اسے یونان کے طول و عرض مں ایک ہفتے تک گھمایا گیا، جمعے کو مشعل جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے آفس میں پیش کی جائے گی، اسے ہفتے کے آخر تک لوزا نے میں موجود اولمپک میوزم میں نمائش کیلئے رکھا جائیگا، اگست میں سمر اولمپک گیمز کے افتتاح سے قبل تقریباً 12 ہزار مشعل بردار اسے برازیل کے 300 شہروں میں لے کر جائیں گے ، اولمپک آرگنائزر ز اس بار ہجرت کر کے یورپ آنے والوں کو بھی اولمپک اٹھانے کا موقع فراہم کیا، اپنے ملک میں بمباری کے باعث ایک ٹانگ سے محروم ہونے والے شامی تیراک نے منگل کو یونان میں قائم ایک رفیو جی کیمپ میں مشعل کا دیدار کرایا، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کو لوگوں کی ہجرت کے حوالے سے بدترین بحران کا سامنا ہے، یونان میں بھی پناہ گزینوں کیلئے الیوناس کیمپ قائم ہے ، وہاں ایک ہزار 600 لوگ مقیم ہیں، 27 سالہ ابراہیم الحسن مشعل اٹھا کر اس کیمپ میں گئے، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کہہ چکی ہے کہ تقریباً 10 پناہ گزین ریو اولمپکس میں حصہ لیں گے، اقوام متحدہ کی رفیو جی ایجنسی ذرائع کے مطابق اس بابت 40 پناہ گزینوں کی نشاندہی کی جاچکی جو ان گیمز میں ممکنہ طورپر شرکت ہو سکتے ہیں، اس کا حتمی فیصلہ جون میں کیا جائیگا،واضح رہے کہ قدیم روایت کے مطابق مشعل اولمپک گیمز کے دوران جلتی رہے گی ، اس روایت کا دوبارہ آغاز 1936 میں برلن اولمپکس سے ہوا تھا۔

مزید :

کھیل -