پاکستان بھارت کیخلاف ایف 16جنگی طیارے استعمال کرسکتا ہے،امریکی سینیٹ نے فراہمی ملتوی کردی: بھارتی اخبار

پاکستان بھارت کیخلاف ایف 16جنگی طیارے استعمال کرسکتا ہے،امریکی سینیٹ نے ...
پاکستان بھارت کیخلاف ایف 16جنگی طیارے استعمال کرسکتا ہے،امریکی سینیٹ نے فراہمی ملتوی کردی: بھارتی اخبار

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سینیٹ نے 700ملین ڈالر کے منصوبے کے تحت پاکستان کو ایف 16طیاروں کی فراہمی کو فیل الحال منسوخ کردیا اور  قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایف 16طیاروں کو بھارت کیخلاف استعمال کرسکتا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی فروخت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے یہ طیارے دہشت گردی کے بجائے بھارت کے خلاف استعمال کئے جائیں۔

قانون سازوں نے اوباما انتظامیہ پر زوردیا ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک بار پھر نظر ثانی کرے۔اخبار کے مطابق کانگریس رکن ’میٹ سلمون‘ نے کانگریس میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت کانگریس کے کئی اراکین کو ان طیاروں کی فراہمی کے فیصلے،فروخت اور فروخت کے وقت پر اعتراضات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت کشیدگی تاحال برقرار ہے اور ایسے میں یہ امکانات نظر آتے ہیں کہ ایف 16طیاروں کودہشت گردی کے بجائے بھارت یا خطے کی دیگر طاقتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سلمون دیگر کئی قانون سازوں کیساتھ امریکی پارلیمنٹ کی وزارت خارجہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے جہاں افغانستان اور پاکستان کیلئے خصوصی امریکی نمائندہ رچرڈ اولسن نے اوباما انتظامیہ کی نمائندگی کی اور فیصلے کا بھرپور دفاع کیا۔

کانگریس کے رکن ’بریڈ شرمین ‘ نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اس بات پر تحفظات ہیں کہ کیا پاکستان کی فوجی امداد او رایف 16طیاروں کی فراہمی دہشت گردی کیخلاف استعمال ہوگی ؟آیا جنگی طیاروں کی فراہمی سے خطے میں پاک بھارت طاقت کاتواز ن تو متاثر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ یہ طیارے بھارت کیخلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف استعمال کیئے جائیں گے۔

امریکی کانگریس نے فی الحال پاکستان کو 8ایف 16جنگی طیاروں کی فراہمی کے منصوبہ کو التو کا شکار کردیا ہے جس کی مالیت 700ملین ڈالر ہے۔سلمون نے رچرڈ اولسن سے طیاروں کے استعمال کے حوالے سے وضاحت اور ان کی فروخت سے امریکہ کو ہونے والے مفادات سے متعلق استفسارکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 9/11سے اب تک پاکستان کو تقریبا25ارب ڈالر امداد دی ہے لیکن پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا پاکستان دہشتگرد عناصر کی مدد کرتا ہے جبکہ پاکستانی فوج کے لئے بھارت میں کئی حملے کیئے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن علینہ راس لیہتنن نے بھی طیاروں کی فروخت پر اعتراض کیااور اس پر وضاحت چاہی۔کانگریس اراکین کی آرا سننے کے بعد رچرڈ اولسن نے بھرپور طریقے سے اوباما انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا پاکستان کو ان طیاروں کی فراہمی کا مقصدہمارے فوجی اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور یہ ہمارے پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کی ملٹری کی انسداد دہشت گردی اور بغاوت کیخلاف مددکرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا ہے اوراب وہ اس کے ذریعے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ان طیارو ں سے پاکستانی طالبان کو نشانہ بنایا جائے گا جو کہ چیمپین اورٹائمز سکوائر جیسے واقعات میں امریکیوںپر حملے کیئے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان ملک میں موجود دہشت گردی سے نبردآزما ہے ،طیارو ںکی فراہمی سے ہم انہیں شدت پسند عناصر کیخلاف مزید کارروائی کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔انہوں نے پاکستانی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب تک دہشت گردوں کیخلاف امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ 800میزائل استعمال کرکے 1700دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے ۔انہوں نے کہا پاکستانی فوج کی جانب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا کہ اس نے اپنی شاندار کارروائیوں کی بدولت سویلین ہلاکتوں اور ملکی نقصان کو کم ترین سطح پر رکھا۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -