فلم ’مالک‘ کا مرکزی کردار کمانڈو بہادری ،  وزیراعلیٰ منفی کردار کی مثال، حکومت گھبراہٹ کا شکار

فلم ’مالک‘ کا مرکزی کردار کمانڈو بہادری ،  وزیراعلیٰ منفی کردار کی مثال، ...
 فلم ’مالک‘ کا مرکزی کردار کمانڈو بہادری ،  وزیراعلیٰ منفی کردار کی مثال، حکومت گھبراہٹ کا شکار

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں آئی ایس پی آر کے تعاون سے بننے والی فلم ’مالک ‘ پر حکومت نے اجازت دینے کے بعد پابندی لگادی جس پر طرح طرح کی آراء سامنے آرہی ہیں لیکن فلم نہ دیکھ پانیوالے قارئین کو یہ معلوم نہیں کہ فلم میں آخرایسی کیا چیز ہے جس کی وجہ سے حکومت کو پابندی لگانا پڑی۔

دنیا نیوز کے پرو گرام ‘‘دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں گفتگوکر تے ہوئے میز بان کا کہنا تھا کہ  حکومت اور چند سیاسی جماعتیں نروس نظر آئی ہیں ،اس کا سب سے بڑا اظہار اس وقت ہوا جب وفاقی حکومت نے کرپشن کے خلاف فلم ‘‘مالک’’ کی نمائش کو اچانک روک دیا۔ اس فلم کا مرکزی کردار پاکستان کی فوج کا ایس ایس جی کمانڈو ہے ، جو بہادری کی مثال بنتا نظر آتا ہے اور فلم کے منفی کردار میں پاکستانی سیاستدان بالخصوص ایک سابق وزیر اعلیٰ ہے ، جو کرپشن میں ڈوبا نظر آتا ہے ۔ اس مخصو ص صورتحال میں یہ فلم پچھلے دو ہفتوں سے چل رہی تھی ۔ منگل کی شب حکومت سندھ نے اس پر پابندی لگا دی اور صبح اچانک یہ پابندی واپس لے لی ۔ اب وفا قی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی ہ، مسلح افو اج کے جر یدے ‘‘الہلال’’ میں اس فلم کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ یہ فلم پاکستان اور پاکستان کے عام لوگوں کے بارے میں ہے ، جن کی کسی کو پروا نہیں۔ فلم ان بے شمار سپاہیوں کے بارے میں ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کیں، ‘‘مالک’’ میں ان سیاستدانوں کو دکھایا گیا ہے جو طاقت کے استعمال کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

سینئر صحافی تجزیہ کار ضیاء الدین نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فلم مالک دیکھی نہیں، لیکن اس کے متعلق جو جائزے پڑھے ہیں اس سے پتا چلا کہ بہت ہی بوگس فلم ہے ، اس کو سینسر نہیں ہونا چاہئے تھا ۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیرنے صوبے میں فلم دکھانے کی پیشکش کی لیکن بعد میں سنسر بورڈ نے اس پیشکش کو مسترد کردیا اور کہاکہ وہ وفاقی سنسر بورڈ کے فیصلوں کے پابند ہیں اور اجازت نہیں دی جاسکتی جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بھی فلم نہ دکھانے کا اعلان کردیا۔

مزید :

تفریح -