میڈیامیں چیخنے والے شریف پاناما پیپرز میں مکمل خاموش

میڈیامیں چیخنے والے شریف پاناما پیپرز میں مکمل خاموش
میڈیامیں چیخنے والے شریف پاناما پیپرز میں مکمل خاموش

  

تحریر: نعمان تسلیم

کافی عرصے سے یہ روایت ہمارے سیاستدانوں میں جڑپکڑ چکی ہے کہ وہ ٹی وی اور اخبارات میں تو بڑھ چڑھ کر مخالفین کومناظرے کے چیلنج دیتے ہیں لیکن جب انہیں کسی ’پراپر فورم‘کے سامنے جا کر یہ بات کہنے کے لئے کہا جائے تو وہ اس سے یکسر مکر جاتے ہیں۔حال ہی میں جب پاناما پیپرز کا ہنگامہ برپا ہوا تو حسن نواز ٹی وی چینلوں پر آئے اور سب کے سامنے یہ تسلیم کیا کہ ان کی آف شور کمپنیوں نے برطانیہ میں جائیدادیں خریدی ہیں۔وزیراعظم میاں نواز شریف کے بچے ٹی وی اور اخبارات میں تو بڑھ چڑھ کر پاناما لیکس کے خلاف بیانات دیتے رہے اور اپوزیشن کوبھی آڑے ہاتھوں لیالیکن جب پاناما پیپرز والوں نے ان سے موقف کے لئے رابطہ کیا تو تینوں میں سے کسی نے بھی جواب نہیں دیا۔

جہاں وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف جو ٹویٹر پیغامات کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں وہیں وزیراعظم کے بیٹے ٹی وی انٹرویوز میں اپنا موقف دیتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاناما پیپرز کی تحقیقات جاری تھیں تو پاناما پیپرز کی انتظامیہ نے بار بار حسن نواز ، حسین نواز اور مریم نواز سے ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو ان شخصیات نے ایک بھی جملہ کہنے سے گریز کیا۔ پاناما پیپرز کی ویب سائٹ پر واضح طور پر یہ بات دیکھی جاسکتی ہے کہ متعدد بار رابطے پر بھی ان میں سے کسی نے بھی اپنا موقف نہیں دیا۔

اس سے ملتا جلتا کام تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کرچکے ہیں۔ دھاندلی کے خلاف ہونے والے اپنے دھرنے میں انہوں نے 35پنکچروں کی بات سرعام کی لیکن جب یہی بات عدالت میں کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے اپنا بیان ہی بدل لیا۔ان باتوں کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ صرف عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں اور اگر سچ بولنا پڑے تو یہ ان کے لئے ناممکن ہے۔

مزید :

بلاگ -