چین نے ایسا خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنالیا جس کا اس سے پہلے فلموں میں سنا تھا، امریکہ کی نیندیں اُڑگئیں

چین نے ایسا خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنالیا جس کا اس سے پہلے فلموں میں سنا ...
چین نے ایسا خطرناک ترین ایٹمی ہتھیار بنالیا جس کا اس سے پہلے فلموں میں سنا تھا، امریکہ کی نیندیں اُڑگئیں

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)خوفناک طاقت کے حامل ایٹمی ہتھیا ر تو دنیا کے بہت سے ممالک کے پاس ہیں لیکن ان ہتھیاروں کو ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کے ساتھ دنیا بھر میں کسی بھی ہدف پر داغنے، اور خصوصاً امریکا کے میزائل دفاعی نظام کے پرخچے اڑانے کی صلاحیت کا حامل ہتھیار پہلی دفعہ سامنے آیا ہے۔

نیوز سائٹ RTکے مطابق امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے گزشتہ جمعہ کے روز DF-ZF ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل کو ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے لانچ کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ یہ تجربہ وسطی چین کی ووزائی سائٹ پر کیا گیا۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے خلائی سیاروں نے افق کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹی کی رفتار پر اڑتے گلائیڈر کو ٹریک کیا، جس کا ہدف چین کے مغربی علاقے میں تھا۔

ایٹمی میدان میں چین کی ایک اور تہلکہ خیز کامیابی، جان کر پاکستانیوں کا دل کرے گا کہ یہ ایجاد بھی چین سے فوری حاصل کرلی جائے

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹیسٹ میں چینی گلائیڈ وہیکل نے رفتار کی آخری حدوں کو چھو لیا۔ اس سے پہلے 2014 اور 2015ءمیں 6ٹیسٹ کئے گئے، جن کے زریعے اس ٹیکنالوجی کو معیار کے اعلٰی ترین مقام تک پہنچایا جا چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلائیڈ وہیکل کو بیلسٹک میزائل کے ذریعے بالائی ماحول میں پہنچایا جاتا ہے، جہاں یہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار پر پرواز کرسکتا ہے۔

واشنگٹن فری بیکن کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ DF-ZF، جو کہ 11ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ رفتار حاصل کرسکتا ہے، ایٹمی ہتھیار داغنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، اور اسے پیچیدہ ترین مسائل ڈیفنس سسٹم بھی روک نہیں پائیں گے۔ یہ گلائیڈ وہیکل ایٹمی ہتھیاروں کے علاوہ روایتی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کے لئے بھی انتہائی تباہ کن ہتھیار ثابت ہوگا، کیونکہ اس کی مدد سے چین دنیا کے کسی بھی کونے کو نشانہ بناسکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -