’ہماری لڑکیوں کا کام ہی دوسروں کیلئے بچے پیدا کرنا ہے اور اس کام سے سالانہ آمدن۔۔۔‘

’ہماری لڑکیوں کا کام ہی دوسروں کیلئے بچے پیدا کرنا ہے اور اس کام سے سالانہ ...
’ہماری لڑکیوں کا کام ہی دوسروں کیلئے بچے پیدا کرنا ہے اور اس کام سے سالانہ آمدن۔۔۔‘

  

میکسیکو سٹی (نیوز ڈیسک) دنیا میں کئی قسموں کے کاروبار پائے جاتے ہیں لیکن کولمبیا کا ایک خاندان جو کام کرتا ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں مل سکے۔ اس خاندان کی جوان لڑکیاں دوسروں کے لئے بچے پیدا کرتی ہیں، اور اس کے بدلے ہر سال لاکھوں ڈالر کماتی ہیں۔

اخبار ڈیلی میل کے مطابق ہرنانڈیز سسٹرز کے نام سے مشہور بہنوں کیلئے امیر یورپی جوڑوں کے بچوں کو اپنی کرائے کی کوکھ میں رکھنا خاندانی کاروبار بن چکا ہے۔ وہ چاروں حاملہ ہیں لیکن ان کے بطن میں پلنے والے بچے ان کے اپنے نہیں۔ نو ماہ کی صعوبت کے بدلے انہیں اتنی رقم میسر آجائے گی کہ جو دیگر زرائع سے یہ نو سال میں بھی نہیں کما سکتیں۔ میکسیکوکے ایک پسماندہ علاقے میں چھپ چھپا کر کرائے کی کوکھ کی خدمات فراہم کرنے والی ان بہنوں میں سے ایک چار ماہ کی حاملہ ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ آج کل ایک فرانسیسی جوڑے کے بچے کے ساتھ حاملہ ہے۔

امریکہ میں 50 لاکھ بچوں کے والدین میں سے کوئی ایک جیل میں ہے: تحقیق

ان چار بہنوں میں سے بڑی بہن میلا گروس نے 2013ءمیں اس کام کا آغاز کیا۔ جب وہ پہلا کرائے کا بچہ پیدا کرنے کے بعد گیارہ ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 17 لاکھ پاکستانی روپے ) کما کر لائی تو اس سے چھوٹی بہن مارتھا کے دل میں بھی خیال پید ا ہوا کہ وہ بھی یہ کام کرے۔ پھر ان دونوں کی دیکھا دیکھی ستائیس سالہ ماریہ اور سب سے چھوٹی بہن بائیس سالہ پالینا نے بھی یہی کام شروع کر دیا۔ اب ان چاروں بہنوں میں سے ہر ایک سالانہ اوسطاً دس ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 15 لاکھ پاکستانی روپے)کمالیتی ہے، جبکہ حمل کے دوران ان کی رہائش کھانے پینے اور دیگر تمام ضروریات کے اخراجات بھی ان کی کوکھ کرائے پر لینے والے جوڑوں کی طرف سے ادا کیے جاتے ہیں۔

ان بہنوں کا خاندان ان پر فخر کرتا ہے۔ ان کی نانی انہیں نصیحت کرتی ہے کہ 35 سال کی عمر سے پہلے پہلے یہ جتنے کرائے کے بچے پیدا کرسکتی ہیں کر لیں، کیونکہ قانونی طورپر 35 سال کی عمر کے بعد کرائے کی کوکھ کی خدمات نہیں لی جاسکتیں۔

میلا گروس کہتی ہیں کہ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں رکھنے کے بعد وہ اسے جنم دیتی ہیں اور دس دن تک دودھ بھی پلاتی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ بچے کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا ہو جانا فطری بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پہلی بار ایک بچی کو کینیڈا کے ایک جوڑے کے لیے جنم دیا تو وہ اس لمحے کا سوچ کر خوفزدہ تھیں کہ جب انہیں یہ بچی کینیڈین جوڑے کے حوالے کرنا ہو گی۔ وہ کہتی ہیں کہ بلآخر انہوں نے جب بچی غیر ملکی جوڑے کے حوالے کی تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور بے ختیار رو دیں۔ تقریبا ً ایک ماہ تک ان کی حالت یہ تھی کہ بار بار نیند سے جاگ جاتی تھیں، یہ سوچتے ہوئے کہ ننھی بچی رو رہی ہو گی اور انہیں پکار رہی ہو گی۔ میلا گروس کا کہنا ہے کہ اب انہوں نے ان جذبات پر قابوپانا سیکھ لیا ہے اور اپنی چھوٹی بہنوں کو بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں، تاکہ وہ جذبات کو قابو میں رکھ کر کاروبار پر توجہ دیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -