مولانافضل الرحمن کی ہسپتال یاترا اور اس کے پیچھے چھپی’ سازش ‘

مولانافضل الرحمن کی ہسپتال یاترا اور اس کے پیچھے چھپی’ سازش ‘
مولانافضل الرحمن کی ہسپتال یاترا اور اس کے پیچھے چھپی’ سازش ‘

  

تحریر:خالد شہزاد فاروقی

پاکستان کے سب سے ’’جہاں دیدہ ‘‘سیاست دان بلاشبہ مولانا فضل الرحمن ہیں ،اس بات کا اعتراف ان کے ناقدین بھی کرتے ہیں ،ملک میں جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا ’’راج ‘‘ ہو یا پھر ’’ایک زرداری سب پر بھاری ‘‘آصف زرداری ’’کرسی صدارت ‘‘پر برجمان ،مولانا فضل الرحمن اپنی ’’خداداد صلاحیتوں ‘‘کی بنا پر ہمیشہ سے ہی ’’حکمرانوں کی آنکھوں کا تارا ‘‘ رہے ہیں ۔میاں نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے تو بھی دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح’’ مولانا ‘‘ نواز شریف کو سخت ہدف تنقید بنانے کو باوجود ’’ایوان اقتدار ‘‘ کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ ’’بڑے میاں‘‘ کے ’’اندرون خانہ ‘‘خصوصی مشیر بھی ٹھہرے۔مولانا فضل الرحمن کو مخالفین کی جانب سے ہمیشہ الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا ،مگر یہ ’’سخت جان مولوی‘‘غیروں کی تنقید کو ’’یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے ‘‘کے مصداق ’’خنداں پیشانی ‘‘سے برداشت کرتا آیا ہے ۔آج بھی ملک میں کوئی ’’بحران ‘‘ درپیش ہو تو حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتیں اور ’’عام آدمی ‘‘ مولانا کی جانب نظریں جمائے ’’نظر‘‘ آتے ہیں کہ ان کا’’ جھکاؤ ‘‘ کس جانب ہے ؟کئی حکومتوں اور حکمرانوں نے ’’کڑے وقت‘‘ میں ہمیشہ ’’مولانا کے سایہ عاطفت‘‘ میں پناہ لینے میں ہی ’’عافیت ‘‘سمجھی ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ ان حکومتوں اور حکمرانوں کو بلا شبہ ’’اتنی بڑی شخصیت‘‘ ہی ’’تحفظ ‘‘ فراہم کر سکتی تھی ۔لیکن کیا کیا جائے کہ اپنے تحریک انصاف کے ’’کپتان‘‘ اور اس کی ٹیم کے ’’کھلاڑی ‘‘اول روز سے ہی مولانا سے ’’خائف ‘‘ رہے ہیں ،مولانا کی جانب سے ’’کپتان‘‘ پر کئی طرح کے وار ،کڑی تنقید اور ’’مضر صحت فتوی‘‘ بھی کے پی کے حکومت کو ’’چلتا کرنے ‘‘ اور خیبر کے پختونوں کو کپتان سے ’’باغی ‘‘کرنے میں تاحال ’’کامیاب نہیں ہو سکے ۔مولانا کے خاندان ،بھائیوں ،بیٹوں ،بہنوئی اور داماد کے حوالے سے لگنے والے تمام الزامات اب بھی ’’الزام ‘‘ ہی ہیں ،کوئی بھی انہیں ثابت نہیں کر سکا ،جبکہ ڈیزل ،پرمٹ ،زمینیوں کی الاٹمنٹ،نوکریوں کے پرمٹ ،وزارتوں کی لوٹ مار،کشمیر کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ سمیت کئی باتیں ایسی ہیں جو نئی نہیں ،اور ویسے بھی پاکستانی سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں نے’’ مبینہ طور پر‘‘جو ’’لوٹ مار‘‘ کی وہ کسی بھی طرح ’’ثابت‘‘ نہیں کی جا سکتی تو پھر پاکستان کے سب سے بڑے اور ’’جہاں دیدہ ‘‘سیاست دان کی کسی’’ کرپشن اور مبینہ لوٹ مار‘‘ کو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے؟؟؟ میں ایک مرتبہ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں ’’مولانا‘‘ کے ’’ماڈرن ترین ترجمان‘‘ کے ساتھ اپنے صحافتی دوستوں کے ہمراہ گپ شپ میں مصروف تھا ،کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ’’مولانا ‘‘کے ترجمان ’’شہر اقتدار ‘‘کے قیمتی کیفوں‘‘میں بیٹھ کر کس طر ح ’’حق ترجمانی ‘‘ ادا کرتے تھے ،وہ تو برا ہو جمعیت علمائے اسلام کے ان چند ایک’’بوریا نشینوں‘‘ کا جنہوں نے مولانا پر ’’دباؤ ‘‘ ڈال کر اس ’’ماڈرن بابو‘‘ کو ’’جمعیت بدر‘‘کیا ،لیکن ’’اندر کی خبر‘‘ رکھنے والے ’’ بضد ‘‘ہیں کہ یہ ’’ماڈرن بابو‘‘اب بھی ’’مولانا‘‘ کے لئے ہی ’’کام ‘‘ کر رہا ہے (واللہ اعلم بالصواب)خیر آج مولانا پر چند سطور لکھنے کا سبب وہ ’’خبر‘‘ بنی جس میں بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمن کو طبعیت ’’ناساز اور معدہ میں تکلیف‘‘ کے باعث پمز ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ،ڈاکٹرز نے ’’مولانا‘‘کو ’’نرم غذا‘‘ کے استعمال کا ’’مشورہ دیا لیکن مولانا’’سینڈوچ‘‘کھانے کی ’’ضد‘‘ کرتے رہے ،آخری خبریں آنے تک مولانا کو صحت میں بہتری آنے پر ڈاکٹرز نے انہیں ہسپتال سے ’’ڈسچارج‘‘کرنے میں ہی’’ عافیت‘‘ جانی ،ممکن ہے کہ ’’کسی رازدان‘‘ نے ڈاکٹرز کو بتا دیاہو کہ اگر آپ نے انہیں ہسپتال میں ’’ایڈمٹ‘‘کر لیا تو شائد آپ ان کی ’’فرمائشیں‘‘ پوری نہ کر سکیں ،کیونکہ مولاناکا’’ معدہ ‘‘انتہائی کمزوری‘‘ کی حالت میں بھی پاکستان کے کسی بھی’’ صحت مند سیاست دان‘‘ سے زیادہ ’’توانگراور مضبوط‘‘سمجھا جاتا ہے اور ویسے بھی مجھے تو ’’مولانا ‘‘ کی’’ ہسپتال یاترا ‘‘میں کسی ’’سازش کی بو‘‘آ رہی ہے کیونکہ ’’مولانا ‘‘ ہسپتال جانے سے قبل ’’آخری بار ‘‘وزیر اعظم نواز شریف سے ’’ملاقات‘‘کرتے پائے گئے تھے ،وزیر اعظم آج کل ’’پانامہ پیپرز‘‘کے انکشافات کے بعد انتہائی ’’مشکل‘‘ میں ہیں ،دوران ملاقات وزیر اعظم نے ’’مولانا ‘‘کو نجانے ایسی کیا ’’چیز‘‘ کھلائی ہے کہ ’’قبلہ مولانا‘‘ کا معدہ اسے فوری طور پر ’’ہضم ‘‘ نہیں کر سکا اور ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ہی مولاناکو ’’ہسپتال یاترا‘‘ کی ضرورت پڑ گئی ۔خیر ہم دعا گو ہیں کہ مولانا کو اللہ ہمیشہ کی طرح صحت مند زندگی اور ’’طاقتورمعدہ ‘‘عطا فرمائے جبکہ ’’شہر اقتدار ‘‘ میں رہنے والے تحقیقاتی صحافی برائے کرم مولانا کی ’’ہسپتال یاترا ‘‘ کے پیچھے چھپی ’’سازش ‘‘ کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے عطا کر کے قوم کو باخبر رکھنے کا فریضہ سرانجام دے لیں تو یہ ان کی ’’قومی خدمت‘‘کے مترادف ہو گا ۔کیونکہ پانامہ لیکس کے بعد ان جیسے ’’گوہر نایاب‘‘کی قوم کو اشد ضرورت ہے ۔

خالد شہزاد فاروقی کل وقتی صحافی اور نجی ادارے میں بطور نیوز ایڈیٹر وابستہ ہیں ،آپ ان سے ksfarooqi@gmail.com پر رابطہ کر سکتے ہیں

مزید :

بلاگ -