فحش فلموں کا خوفناک اثر سامنے آگیا، مغربی نوجوان لڑکیوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ روشن خیالوں کے بھی پیروں تلے زمین نکل گئی

فحش فلموں کا خوفناک اثر سامنے آگیا، مغربی نوجوان لڑکیوں نے ایسا کام شروع ...
فحش فلموں کا خوفناک اثر سامنے آگیا، مغربی نوجوان لڑکیوں نے ایسا کام شروع کردیا کہ روشن خیالوں کے بھی پیروں تلے زمین نکل گئی

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) فحش فلموں کے نئی نسل کی سوچ اور نظریات پر منفی اثرات کی بات اب پرانی ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ مغربی ممالک کی نوعمر لڑکیوں نے ان فلموں سے متاثر ہوکر ایسے گل کھلانا شروع کر دئیے ہیں کہ خود مغربی ماہرین بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

ڈیلی میل کے مطابق امریکی شعبہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین اور خصوصاً نو عمر لڑکیاں فحش مواد سے متاثر ہو کر اپنے جنسی اعضاءکی پلاسٹک سرجری کے جنون میںمبتلاءہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال خواتین میں زنانہ جنسی اعضاءکی پلاسٹک سرجری میں 16 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ 18 سال سے کم عمر لڑکیوں میں اس آپریشن کی شرح میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔

فحش فلمیں دیکھیں اور 14 لاکھ روپے ماہانہ کمائیں،نوکری کو وہ اشتہار جو کسی کے منہ میں بھی پانی لے آئے گا

ایڈو لیسنٹ ہیلتھ کیئر کمیٹی کی چیئرمین اور تحقیق کار جولی سٹریک لینڈ کا کہنا ہے کہ زنانہ اعضاءکی شکل و جسامت میں تنوع ایک قدرتی اور نارمل بات ہے لیکن فحش فلموں میں پیش کی جانے والی غیر فطری منظر کشی نے نوجوان لڑکیوں کو گمراہ کردیا ہے اور وہ قدرتی فرق کو خامی سمجھ کر احساس کمتری میں مبتلا ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی ایک وجہ وہ پلاسٹک سرجن بھی ہیں جو اپنا کاروبار بڑھانے کے لئے نسوانی اعضاءکی ایک آئیڈیل تصویر کشی اپنے اشتہارات میں پیش کرتے ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق 2014ءمیں 18 سال سے کم عمر 222 لڑکیوں نے لیبیا پلاسٹی کے آپریشن کروائے جبکہ اگلے سال یہ تعداد 400 سے بھی بڑھ چکی تھی۔ تحقیق کار ڈاکٹر جینیفر وارڈن کا کہنا تھا کہ نوعمر لڑکیوں میں یہ آپریشن سب سے زیادہ مقبول ہے، البتہ نسوانی اعضاءکے دیگر اقسام کے آپریشن بھی کروائے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر وارڈن کہتی ہیں کہ جہاں کچھ خواتین کو واقعی اس آپریشن کی ضرورت ہوسکتی ہے وہیں نوعمر لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد محض فحش فلموں اور عریاں تصاویر کو دیکھ کر اپنے اعضاءمیں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرنے لگتی ہیں۔ امریکا میں لیبیا پلاسٹی کا آپریشن اوسطاً 7ہزار ڈالر (تقریباً 7لاکھ پاکستانی روپے) میں کیا جارہا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -