’اگر لڑکی نشے میں ہو تو اسے جنسی زیادتی نہیں کہا جاسکتا‘ عدالت کا ایسا فیصلہ کہ دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا

’اگر لڑکی نشے میں ہو تو اسے جنسی زیادتی نہیں کہا جاسکتا‘ عدالت کا ایسا فیصلہ ...
’اگر لڑکی نشے میں ہو تو اسے جنسی زیادتی نہیں کہا جاسکتا‘ عدالت کا ایسا فیصلہ کہ دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا کی ایک عدالت نے یہ کہہ کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ نشے میں مدہوش لڑکی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو قانون کی نظر میں جنسی زیادتی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

اخبار دی گارڈین کے مطابق یہ منفرد فیصلہ اوکلا ہوما سٹیٹ کی کرمنل اپیلز کورٹ نے متفقہ طور پر سنایا۔ عدالت میں پیش کئے گئے مقدمے میں بتایا گیا تھا کہ ایک 16 سالہ لڑکی اپنے دوست لڑکوں کے ساتھ تلسا کاﺅنٹی کے ایک پارک میں شراب نوشی کررہی تھی۔ جب نشے کی زیادتی سے لڑکی کی حالت غیر ہونے لگی تو ایک 17 سالہ لڑکا اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر اس کے گھر چھوڑنے کے لئے نکلا۔ نشے میں دھت لڑکی کو اس کے گھر چھوڑنے کی بجائے لڑکا اپنی دادی کے گھر لے گیا اور وہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ مدہوش لڑکی کو جب ہسپتال میں معائنے کے لئے لے جایا گیا اس کے ساتھ جنسی فعل کے شواہد ملے، جس کے بعد لڑکے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔

یہ خوبرو حسینہ مَردوں کو اپنی ایسی غلیظ چیز دے کر لوٹ رہی ہے کہ جان کر آپ کو بھی شدید حیرت ہوگی

لڑکے کا موقف تھا کہ لڑکی نے اس فعل کے لئے رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ لڑکی کا کہنا تھا کہ اسے پارک سے نکلنے کے بعد کسی بات کا ہوش نہ تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ریاست کے قانون کے مطابق لڑکے کے فعل کو جبری زیادتی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ بیہوش لڑکی کی طرف سے عدم رضامندی یا مزاحمت کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد امریکا میں ایک نئی قانونی بحث چھڑگئی ہے۔ ریاست اوکلاہوما کے حکام نے عدالتی فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ درست ہے، البتہ قانون سازوں کو چاہئیے کہ قانون میں ترمیم کر کے اسے درست کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -