ترکی میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر خاتون کالم نگار سمیت 2 صحافیوں کو دو سال قید کی سزا سنا دی ،مغربی میڈیا نے آزادی صحافت کا شور مچا دیا

ترکی میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر خاتون کالم نگار سمیت 2 صحافیوں کو ...
ترکی میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر خاتون کالم نگار سمیت 2 صحافیوں کو دو سال قید کی سزا سنا دی ،مغربی میڈیا نے آزادی صحافت کا شور مچا دیا

  

انقرہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے شہر استبول کی عدالت نے فرانسیسی ہفت روزہ چارلی ہیبدو میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کرنے پر دو ترک صحافیوں کو دو، دو سال قید کی سزا سنادی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذکورہ سزا اپوزیشن کے تحت چلنے والے روزنامہ جمہوریت کے دو کالم نگاروں کو سنائی گئی ہے۔سزا پانے والے حکمت اور کیادہ کرن کے وکیل نے بتایا کہ دونوں صحافیوں کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ترکی کی کرمنل کورٹ کی جانب سے دونوں صحافیوں کو سزا سنائے جانے پر ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم سزا کے خلاف اعلی عدلیہ میں درخواست دائر کریں گے۔دونوں صحافیوں نے فرانسیسی جریدے ’’چارلی ہیبڈو ‘‘ سے اظہار یکجہتی کے نام پر اپنے کالم میں متنازع گستاخانہ خاکے شامل کئے تھے ،جس پر ترکی میں مذہبی فسادات بھڑک اٹھے تھے اور ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا ۔جس کے بعد حکومت نے گذشتہ سال جنوری میں عوامی نفرت پیدا کرنے اور مذہبی اقدار کی توہین کرنے کے الزام میں دونوں صحافیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔خیال رہے کہ ترک زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ جمہوریت نے 14 جنوری 2015 کو چارلی ہیبدو میگزین کی جانب سے شائع ہونے والی ایک فرانسیسی زبان کی رپورٹ کو ترک زبان میں ترجمعہ کرکے چار صفات کی صورت میں شائع کیا تھا۔مذکرہ رپورٹ میں چارلی ہیبدو میگزین کا تمام فیچر شامل نہیں کیا گیا تھا جس میں گستاخانہ خاکے شامل تھے تاہم صرف ایک خاکے کو مذکورہ اخبار نے دو مختلف کالموں میں دو مرتبہ شامل کیا تھا۔یاد رہے کہ مذکورہ روزنامہ جمہوریت کی جانب سے ہونے والی اس اشاعت پر ترک وزیراعظم احمد داد اولو نے مزمت کرتے ہوئے اسے کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ فرانس کے ہفت روزہ رسالے چارلی ہیبدو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر گزشتہ سال جنوری میں مسلح افراد نے حملہ کرکے ایک پولیس اہلکار سمیت 12 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔جب کہ ان کالم نگاروں کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد 1280افراد نے عدالت میں مذہبی جذبات مجروع کرنے اور نبی کریم ﷺ کی گستاخی کے جرم میں ان مذکورہ صحافیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا ۔

مزید :

بین الاقوامی -