گندم ایکسپورٹ پالیسی چاہئے نہ کہ کھیل

گندم ایکسپورٹ پالیسی چاہئے نہ کہ کھیل
 گندم ایکسپورٹ پالیسی چاہئے نہ کہ کھیل

  



مُلک میں گزشتہ تین چار برسوں سے گندم کی شاندار فصل ہو رہی ہے اور ہم گندم کے معاملے میں خود کفیل ہیں، مگر پالیسی کے معاملے میں قحط کا شکار ہیں۔ موجودہ فصل کا تخمینہ بھی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ بھی پروڈکشن اور کوالٹی کے اعتبار سے بہترین فصل ہے،جس کا کریڈٹ کسان کی محنت کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت کو جاتا ہے،جنہوں نے600ارب روپے کے قریب زرعی پیکیج کی صورت میں انویسٹ کئے اور پھر کسانوں کو سپورٹ کرنے کے لئے گندم خریداری شروع کر دی۔ پنجاب میں میاں شہباز شریف اور بلال یٰسین نے نامساعد حالات کے باوجود 40لاکھ ٹن گندم خریدنے کا پروگرام بنایا جو لائق تحسین ہے۔ البتہ آج کا موضوع فاضل گندم کی ایکسپورٹ سے متعلق ہے، جس میں حالات کا صحیح ادراک نہ کرنے اور غلط مشورے حاصل کرنے کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پنجاب کے پاس26لاکھ ٹن گندم فاضل ہے، جو وزارتِ خزانہ کا منہ چڑا رہی ہے اور بینکنگ سیکٹر کی کمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے،جبکہ فاضل سٹاکس محکمہ خوراک کے اہلکاران کے لئے بھی ’’رحمت‘‘ کا باعث ہوتے ہیں۔

ایکسپورٹ کا سیدھا سادہ اصول ہے کہ جب ٹماٹر ایکسپورٹ ہوں تو وہ یہاں200روپے کلو گرام بھی ہو جاتے ہیں، جب جانور باہر بھیج دیئے جائیں تو قربانی مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گندم ایکسپورٹ پالیسی،جو گزشتہ دو برسوں پر محیط ہے، کیوں کامیاب نہیں ہوئی؟ مُلک میں گندم کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہی اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی پالیسی نہیں، بلکہ ایک کھیل ہے، جس کے کھلے اور چھپے کئی کھلاڑی ہیں، جو میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔ اِس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، مگر حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ گندم کے فاضل ذخائر سے کتنے فالتو اخراجات ہو رہے ہیں، جن سے نئے سکول اور صحت کے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔حکومت نے عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا اور گندم کی ایکسپورٹ نجی شعبے کے حوالے کر دی،حالانکہ اگر حکومت خود عالمی ٹینڈر جاری کرتی تو نقصان بھی کم ہوتا اور ری بیٹ جیسے معاملات بھی پیش نہ آتے۔حکومت کے پاس ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور پاسکو جیسے ادارے ہیں جو سارا سال تنخواہیں لے کر20دنوں میں صرف گندم خریداری کرتے ہیں، ایسا ہی کچھ حال محکمہ خوراک کا ہے۔ حکومت چاہتی تو مروجہ طریقہ کار کو استعمال میں لاتی اور ان اداروں کو فعال بناتی، مگر ایسا نہیں ہوا اور آج عوام بھی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ گندم ایکسپورٹ پالیسی نے قومی خزانے کا فائدہ کیا یا نقصان؟

حکومت اب بھی اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دے اور گندم کی برآمد خود کرے،جبکہ پورے مُلک میں پھیلی ہوئی فلور ملنگ انڈسٹری کو آٹے کی ایکسپورٹ سہولتوں کے ساتھ دی جائے، جس سے کم از کم بند انڈسٹری چلے گی اور بے روز گاری میں کمی واقعہ ہو گی، مگر اس سلسلے میں بھی رکاوٹ موجود ہے، یعنی ہمارے افغانستان سے خراب تعلقات، کوئی زمانہ تھا کہ افغانستان میں80فیصد ضرورت کا آٹا پاکستان سے جاتا تھا، جسے عرفِ عام میں سمگلنگ کہہ دیا جاتا جو1997ء میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ریگولرائز کر دیا، جبکہ یہ ایک ریگولر تجارت کا درجہ رکھتی ہے تو ہم نے افغانستان کو دوسرے دوستوں کی طرف دھکیل دیا ہے، لہٰذا ہماری 10لاکھ ٹن سالانہ گندم کی آٹے کی شکل میں مارکیٹ تو ہم سے چھن گئی اور چھنی ہوئی مارکیٹ کو واپس لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سب حقائق کی روشنی میں تینوں حکومتوں سے گزارش ہے کہ خدارا اِس مسئلے کی اہمیت کو سمجھیں، مُلک پہلے ہی ایکسپورٹ میں کمی کا شکار ہے اور گندم اس امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے،لہٰذا مُلک کو گندم ایکسپورٹ پالیسی چاہئے نہ کہ کھیل۔ گندم ہمارے مُلک کی بڑی فصل ہے جس کا جی ڈی پی میں اہم حصہ ہے لہٰذا اس کو منافع بخش ہی رہنے دیں اور اسے نظر انداز مت کریں۔ انشا اللہ یہاں خوراک کی کمی ہے نہ ہو گی۔

مزید : کالم