وفاقی بجٹ میں صحت کا شعبہ نظر انداز، حکومت نے 23 ارب روپے کی کٹوتی کردی

وفاقی بجٹ میں صحت کا شعبہ نظر انداز، حکومت نے 23 ارب روپے کی کٹوتی کردی
وفاقی بجٹ میں صحت کا شعبہ نظر انداز، حکومت نے 23 ارب روپے کی کٹوتی کردی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد  (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کی حکومت نے آخری بجٹ میں صحت کے شعبہ کو مزید نظر انداز کر دیا،رواں سال کی نسبت اگلے مالی سال کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے فنڈز میں 23 ارب روپے کی کٹوتی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز چھٹا بجٹ پیش کیا گیا، تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے چھٹا بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کیلئے اربوں روپے مختص کیے گئے لیکن صحت کے شعبے کو توجہ نہیں دی گئی اور اس کے فنڈز میں کٹوتی کردی گئی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 2018-19کے بجٹ میں صحت کے لیے25ارب روپے مقرر کیے گئے ہیں اوراس کے فنڈز میں 23 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ 2017-18کے وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے48ارب روپے مقرر کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ 2012-13کے وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے 7ارب 84کروڑروپے مقرر کیے گئے تھے جبکہ 2013-14 کے بجٹ میں 9ارب 86کروڑ اور 2014-15کے وفاقی بجٹ میں صحت کے شعبے کیلئے 10ارب ایک کروڑروپے مختص کیے گئے تھے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2015-16کے وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے11ارب روپے مقرر کیے جبکہ 2016-17کے وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے30ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

مزید : بجٹ /علاقائی /اسلام آباد