پاکستانی سیاستدانوں کا بینڈ ویگن نظریہ

پاکستانی سیاستدانوں کا بینڈ ویگن نظریہ
پاکستانی سیاستدانوں کا بینڈ ویگن نظریہ

  

 

مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں عام طور پر ایسے کالم لکھنے سے گھبراتا ہوں۔کیونکہ پاپولر ٹرینڈ کے سامنے ٹھہرنا کافی مشکل ہوتا ہے اس لیے اس قسم کی’’ بیوقوفی‘‘ سے پرہیزکو بہتر سمجھتا ہوں۔پھر بھی اپنی بات کہنے کے لیے مجھے اس عنوان کا سہارا لینا پڑا ہے تاکہ پڑھنے والے کسی بھی مشکل کا شکار ہوئے بغیر کالم پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ آسانی سے لے سکیں۔کمیونکیشن تھیوریز کی کلاس میں ’’بینڈ ویگن‘‘ کا تصور پڑھتے ہوئے یہ سادہ سی بات لگی ،صحافت کے شعبے میں عملی طور پر کام کرتے ہوئے یہ خیال مزید نکھر کر سامنے آیا۔ بینڈویگن اس سواری کو کہا جاتا ہے جس پر بینڈ کے افراد کسی سرکس یا میلے کے دوران سوار ہوتے ہیں۔پہلی مرتبہ 1848ء میں ’’جمپ آن دی بینڈ ویگن‘‘ کی ٹرم امریکا کی سیاست میں استعمال ہوئی۔اس تصور کو ڈین رائس نے متعارف کروایا،یہ اپنے وقت کا معروف ’’جوکر‘‘ تھا ۔رائس نے اپنی بینڈ ویگن کو اور اس کے میوزک کو اپنی سیاسی کمپین کے لیے بخوبی استعمال کیا۔رائس اپنے ٹیلنٹ کی بدولت پہلے ہی عوام میں مقبول تھا،بینڈ ویگن کادرست استعمال کر کے اس نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔یہاں تک کہ اس کی انتخابی مہم اتنی زبردست اورر کامیاب رہی کہ باقی سیاست دان بھی اس ’’تکنیک ‘‘ کو استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔دوسرے سیاستدانوں نے بھی بینڈ ویگن کی سیٹ کی جدوجہد شروع کی تاکہ وہ بھی اس کامیابی کا حصہ بن سکیں۔

1990ء ولیم جیننگ کی صدارتی انتخابی مہم میں ’’بینڈ ویگنز‘‘ الیکشن مہم کا سٹینڈر بن چکی تھیں۔’’جمپ آن دی بینڈ ویگن ‘‘ ٹرم کا فلسفہ یہ کہتا ہے کہ ووٹر ہمیشہ اس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے جس کے بارے میں وہ یہ محسوس (چاہے میڈیا کے زیر اثر ) کرے کہ یہ پارٹی جیت رہی ہے۔ یہ خیال ووٹر کے ذہن میں واضح ہوتا ہے کہ جیت کی صورت میں وہ ’’وننگ پینل‘‘ کے ساتھ کھڑا ہوا نظر آئے گا۔کمیونیکالوجسٹ بینڈ ویگن کو واضح کرکے اسے مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کسی بھی مقصد کی حمایت صرف اس لیے کرناکہ یہ مقبول بھی ہے اور اکثریت بھی اس کی طرفدار ہے،اس طرح سے حمایتی افراداس مقصد کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ وہ جیتنے والے لوگوں میں اپنا نام درج کرواسکیں۔اس کا استعمال ایڈورٹائزنگ کی فیلڈ میں عام نظر آتا ہے یہ بڑی موثر پروپیگنڈا تکنیک ہے جو ہمیں کسی بھی پروڈکٹ کا خریدار ،کسی نئی چین کا مستقل گاہک،نئے فیشن کا دلدادہ،کسی نئے پرفیوم کا یوزر،کسی نئی فلم کا گرویدہ،کسی اخبار یا میگزین کا ریڈر،کسی مخصوص چینل کا ویور بنا کر دم لیتی ہے۔اس کے پیچھے ایک سادہ سی بات نظر آتی ہے وہ یہ کہ’’ہمیں بھی یہ کام کرنا چاہیے کیونکہ باقی سب بھی یہی کام کر رہے ہیں‘‘۔ اس کی زندہ مثال جینی فرانسٹن ہے،جینی فر امریکا کے مشہور و معروف سٹ کام (FRIENDS ) میں اہم کردار ادا کرنی والی رچل ہے،رچل کی اداکاری ایک طرف،اس کا ہئیر سٹائل نوے کی دہائی میں اتنا پاپولر ہوا کہ خواتین میں رچل کے بالوں کا انداز باقائدہ خوبصورتی کی علامت سمجھا جانے لگا۔یہ سٹائل پیپل اور فوربزجیسے شہرہ آفاق میگزین کے ٹائٹلز کی زینت بنا۔لوگوں نے اسے اپنایا اور باقی لوگوں نے صرف اس لیے یہ سٹائل اختیار کیا کیونکہ یہ ان دنوں inبھی تھا اور عام بھی تھا۔آج کئی سال گزرنے کے باوجودآپ کسی بھی امریکی خاتون سے رچل ہئیر سٹائل کے متعلق پوچھ سکتے ہیں۔ان سالوں میں کئی فیشن آئے اور کئی فیشن ختم ہوگئے مگر امریکی حسینہ رچل کے بالوں والا سٹائل آج بھی اس معاشرے میں کہیں کہیں زندہ نظر آتا ہے۔ایک لمحے کے لیے رچل اور بینڈ ویگن کو بھول جائیے۔ہم سپائرل آف سائلنس کی طرف بڑھتے ہیں۔

جرمن پولیٹیکل سائنٹسٹ نے 1974ء میں( Spiral of Silence Theory   )پیش کی۔سپائرل آف سائلنس کی تھیوری بتاتی ہے کہ اکثریت اور اقلیت اپنی رائے کا اظہار کیسے کرتی ہے۔اقلیت ہمیشہ کسی خاص موضوع پر خاموشی اختیار کرتی ہے۔مثال کے طور پر یہودی جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کو سپورٹ نہیں کیا مگر وہ پھر بھی اس جنگ پر خاموش رہے۔

تھیوری کے مطابق جب بھی کوئی نظریہ،کوئی نئی بات لوگوں کے سامنے رکھی جاتی ہے تو جس طرف زیادہ لوگ رائے دیں باقی رہ جانیوالے لوگ صرف تنہائی کے خوف کے بناء پر اس نظریئے کے حامی ہوجاتے ہیں،مثال کے طور ایک کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر نے اپنی کمپنی کے ملازمین کے کام کرنے کے اوقات میں اچانک اضافہ کردیا اکثریت نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا تو اب باقی لوگ جو اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں وہ اس موقع پر مختلف قسم کے خوف کا شکار ہوکر خاموشی یعنی اس فیصلے پر رضا مندی ظاہر کردیں گے۔

اسی طرح ایک پروفیسر صاحب نے اس تھیوری کو عملی طور پر ایسے پرکھا کہ ایک کلاس میں سے ایک طالبعلم کو کلاس روم سے باہر بھیجا گیا شرکاء کو تجربے کے متعلق بتادیا گیا جب وہ طالبعلم واپس آیا ٹیچر نے صاف بورڈ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا بورڈ پر کیا لکھا ہے تو کلاس نے جواب دیا بورڈ پر لکیر کھینچی گئی ہے اب وہ طالبعلم جسے کوئی لکیر نظر نہیں آرہی تھی (Fear  of  Isolation) کی بناء پر کہنے پہ مجبور ہوگیا بورڈ پر لکیر کھینچی گئی ہے۔آپ بینڈ ویگن اور سپائرل آف سائلنس تھیوری کے ذریعے پاکستان کی انتخابی سیاست کو با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔آپ ملکی سیاست کا جائزہ لیں تو آ پ کو احساس ہوگا ہماری ساری سیاست گوروں کی ان دو تھیوریز کے درمیان کھیل رہی ہے۔ہر جنرل الیکشن سے پہلے کوئی ’’جوکر‘‘ بینڈ ویگن لے کرآتا ہے اور سیاست دان بصد احترام اس ویگن پر سوار ہوجاتے ہیں۔ آئندہ چند ماہ تک عام انتخابات ہونے والے ہیں اس مرتبہ ’’بینڈ ویگن‘‘ کا کانسیپٹ مزید پذیرائی حاصل کرے گا ۔مگر سپائرل آف سائلنس تھیوری والا ’’تنہائی کا خوف‘‘ کس قدر کام کرتا ہے یہ آنے والے دن بتائیں گے۔۔! 

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ