بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے اُٹھنے والی آوازِدانش

بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے اُٹھنے والی آوازِدانش

  

چین کے صدر شی چن پنگ نے کہا ہے کہ ”ون بیلٹ، ون روڈ“ منصوبہ گلوبل ٹریڈ کا نیا پلیٹ فارم ہے، جو شریک تمام ممالک کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا، چین بین الاقوامی تعاون کے لئے دوستانہ ماحول کو فروغ دینے کی غرض سے اعلیٰ معیار کے آزاد تجارتی معاہدے کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔انہوں نے منصوبے میں شامل تمام شرکا پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ معیار کی ترقی جاری رکھیں،کھلی، سبز اور صاف سوچ کو سراہا جانا چاہئے، بہتر طرزِ زندگی اور پائیدار ترقی کے مقاصد حاصل کرنے چاہئیں،انہوں نے بنیادی ڈھانچے کو رابطے کا اہم سنگ میل قرار دیا۔اُن کا کہنا تھا چین محصولات مزید کم کرے گا، مختلف قسم کی غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کر کے چینی مارکیٹ کے دروازے مزید کھولے گا اور دُنیا کے مختلف ممالک کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کا خیر مقدم کرے گا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی، مزید کھلا چین دُنیا کے ساتھ مزید خوش اسلوبی سے روابط استوار کرے گا۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے کلیدی صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک، بی آر آئی کا بڑا جزو ہے، مل کرکام کرنے کے خواہش مند ہیں تاکہ مستقبل میں امید اور خوشحالی کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے، باہمی اختلافات ختم کر کے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔اُن کا کہنا تھا بدعنوانی ختم کرنے کے لئے بین الاقوامی شراکت داری چاہتے ہیں،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ مشترکہ خوشحای کا بہترین ماڈل ہے۔

”ون بیلٹ ون روڈ“ منصوبہ چینی صدر شی چن پنگ کے وژن کا عکاس ہے،جس کے تحت تین براعظموں کو آپس میں سڑکوں اور ریل کے ذریعے ملایا جا رہا ہے اور دُنیا کے ساٹھ سے زیادہ ممالک اس وژنری منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں،سی پیک بھی اس وسیع ترقیاتی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔چین نے دُنیا کے جن ممالک میں اس وژن کے تحت ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہی اُن میں سے بعض مکمل بھی ہو گئے ہیں اور ان ممالک کی معیشتوں میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں،اس منصوبے کے تحت برطانیہ اور چین کے درمیان ایک گڈز ٹرین چلنا شروع ہو گئی ہے،جو یورپ کے کئی ممالک سے گزر کر بیس دن میں چین سے برطانیہ اور پھر اتنی ہی مدت میں واپس پہنچتی ہے۔ اس گڈز ٹرین کے ذریعے چین کی ضرورت کی اشیا برطانیہ سے آتی ہیں اور برطانیہ کو اس کی مطلوبہ اشیا چین سے بھیجی جاتی ہیں۔ سمندری راستے کے ذریعے یہی اشیا منزلِ مقصود تک پہنچنے میں کافی وقت لے جاتی تھیں،چنانچہ بلین ڈالر کا یہ منصوبہ شروع کیا گیا،جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا تیز رفتار تصور عملاً متعارف کرا دیا ہے۔یہ تو سامان کی نقل و حرکت ہے۔ افریقہ کے ملک جبوتی میں جدید ترین تیز رفتار الیکٹرانک مسافر ٹرین بھی اپنی نوعیت کا ایک ایسا عجوبہ ہے،جس سے اس خطے کے لوگ پہلے آشنا نہیں تھے،اس کے ذریعے سفر کی ناقابل ِ یقین آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں اور یہ تصور پختہ تر ہو گیا ہے کہ تہذیب سڑک کے راستے سفر کرتی ہے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بغیر دُنیا کا کوئی ملک جدید دور کی جانب سفر کا خواب تک نہیں دیکھ سکتا،اِسی لئے چینی صدر نے اپنی تقریر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا خصوصی طور پر ذکر کیا جو رہنما ایسی ترقی کے قائل نہیں رہے،اُنہیں خصوصی طور پر ”ون بیلٹ ون روڈ“ منصوبوں کا تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ کیا اس سے ترقی ہوتی ہے یا نہیں۔

سی پیک کے منصوبے کو بھی پاکستان میں بعض لوگوں نے مغربی مفادات کے تناظر میں دیکھا، پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں،بلکہ حکومت کا بھی حصہ ہیں، جنہیں سی پیک کے منصوبوں میں ”کیڑے“ نظر آتے ہیں اور انہوں نے یہ تجویز تک فلوٹ کر دی تھی کہ ایک سال کے لئے سی پیک کے منصوبوں کو منجمد کر دیا جائے، وجہ غالباً یہ تھی کہ تجویز پیش کرنے والی سرکاری شخصیت کا بھی صنعتی شعبے سے تعلق ہے اور اُن کی کمپنی نے سی پیک کے پانچ منصوبوں کے لئے ٹینڈر دیا جن میں سے ایک بھی پراجیکٹ ان کی کمپنی کو نہ مل سکا، چنانچہ اُنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو پیش ِ نظر رکھ کر سی پیک کے منصوبوں ہی کو فریز کرنے کی تجویز پیش کرڈالی،حالانکہ جو منصوبے اب تک مکمل ہو چکے ہیں وہ نتائج بھی دے رہے ہیں اور اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ اگر نہیں ہو رہی تو اس کی ایک وجہ توانائی کے وہ منصوبے بھی ہیں جو سی پیک کے تحت مکمل ہوئے،وزیراعظم عمران خان نے درست طور پر سی پیک کو ایک نعمت قرار دیا،تاہم اُنہیں اس امر پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ اُن کے یمین و یسار میں کہیں ایسے لوگ تو موجود نہیں،جو اس نعمت کا کفران کر رہے ہیں،کیونکہ کسی وجہ سے اُنہیں اس میں حصہ نہیں ملا تھا۔

چند روز پہلے پاکستان میں چینی سفیر نے کہا تھا کہ چین پاکستان کو بغیر سود کے6ارب ڈالر کا قرضہ دے چکا ہے،دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑی رعایت ہے، جو چین نے پاکستان کو دی ہے، کیونکہ عمران خان کی حکومت نے سعودی عرب اور یو اے ای سے جو تین تین ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے حاصل کئے ہیں اُن پر بھی بالترتیب3.18فیصد اور 3.20 فیصد کی شرح سے سود ادا کرنا ہے،اس لئے جو حلقے سی پیک کے منصوبوں یا چینی قرضوں پر شکوک و شبہات کے سائے ڈالتے رہتے ہیں اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے واقعات منظر عام پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ چین سب کچھ اپنے ”توسیع پسندانہ عزائم“ کے لئے کر رہا ہے اور اس میں دوستی نہیں،”سامراجی عزائم“ جھلکتے ہیں،اُنہیں چینی قرضے کے سلسلے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور چینی صدر شی چن پنگ اور وزیراعظم عمران خان نے روڈ اینڈ بیلٹ فورم کے دوسرے اجلاس میں جن خیالات کا اظہا کیا اُنہیں اچھی طرح پڑھ لینا چاہئے اور ان کے بین السطور جو پیغام ہے اُسے بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے،جو ممالک اس منصوبے کے مخالف ہیں اُن کا خُبث ِ باطن تو اب اتنا خفیہ بھی نہیں رہ گیا اِس لئے ہمارے دوستوں کو اس کے سحر سے نکل آنا چاہئے۔ ضرورت ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے شکوک و شبہات پھیلانے والی لابی پر، جو جہاں کہیں بھی ہے، نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -