سوئی ناردرن کا ریکارڈ منافع

سوئی ناردرن کا ریکارڈ منافع

کہا جا رہا ہے کہ گیس کے نرخوں میں حالیہ اضافہ کے بعد بھی قیمت اور بڑھے گی کہ آئی ایم ایف کا زور اس پر ہے وہ گیس پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرانا چاہتا ہے،حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس رعایت ہی کی وجہ سے خسارہ ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہے،لیکن دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ سوئی ناردرن گیس کے اعداد و شمار کے مطابق30جون2018ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران سوئی ناردرن نے 11ارب12کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا اور بعد از ٹیکس 17.54 روپے فی شیئر منافع حاصل کر کے اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ منافع حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ2016-17ء کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال بعداز ٹیکس منافع میں 29.10 فیصد کا اضافہ ہوا۔مزید یہ بھی تحریر ہے کہ30 ستمبر2018ء کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی میں پہلی بار2 ارب59کروڑ روپے کا عبوری منافع،4.09 روپے فی شیئر کے حساب سے حاصل ہو چکا ہے۔ گزشتہ عرصے کے مقابلے میں بعداز ٹیکس منافع کی شرح 36.30فیصد رہی، اس کامیابی پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین دلاور عباس نے مبارک باد دی اور کمپنی کے سینئر جونیئر اہلکاروں کی کاوش کو سراہا اور یقین ظاہر کیا کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔یہ سوئی ناردرن گیس کی اپنی رپورٹ ہے، جبکہ رپورٹ میں نادہندگی اور واجبات کی عدم ادائیگی کا ذکر متعلقہ خبر میں نہیں،اگر وہ سب بھی(جو زیادہ تر سرکاری محکموں کے ذمہ ہیں) وصول ہوں تو یہ منافع اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اس رپورٹ والی خبر نے چونکا دیا ہے کہ سارا واویلا یہ کیا گیا تھاکہ خسارہ ہو رہا ہے اور اسی بنا پر گیس کے نرخ بڑھا اور مراحل بنا کر لوگوں کی چیخیں نکلوائی گئیں۔ وزیراعظم کے ایما پر بنائی کمیٹی نے بھی بلوں کو ناجائز قرار دیا اور رقوم کی واپسی کا اعلان ہوا تھا، جو اب تک ادا نہیں ہوئی ہیں،اب حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو صارفین کے لئے نرخوں میں اضافہ واپس لیا جائے جو خسارہ کہہ کر کیاگیا تھا۔توقع ہے کہ حکومت صارفین کو ریلیف دے گی۔

مزید : رائے /اداریہ